خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 495 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 495

خطبات محمود ۴۹۵ سال ۱۹۳۵ء وہ کہہ دے کہ میں نے فلاں کے حق میں ساری جائداد کی وصیت کر دی ہے تو اسے کتنا افسوس ہو گا یہی حال مسلمانوں کا ہے وہ سمجھے بیٹھے تھے کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان سے آئیں گے تو غیر مسلموں کا سب کچھ ہمارے حوالے کر دیں گے لیکن ہم نے ان کے یہ سب خواب پریشان کر دیئے۔غور کروان کے نقطہ نگاہ سے یہ کتنا بڑا ظلم ہے جو ہم نے ان پر کیا۔کئی ایک کی خیالی بادشاہتیں ، کئی ایک کی تجارت اور کئی ایک کی بڑی بڑی زمینداریاں ہم نے ان سے چھین لیں اور وہ چیزیں جن پر وہ امید لگائے بیٹھے تھے ، پھر غیروں کے قبضہ میں چلی گئیں اور اس طرح ہم ان کے لئے کس قدر اذیت کا موجب ہوئے ہیں اور ایسی حالت میں انکو اگر ہم پر غصہ آئے تو وہ ایک حد تک مجبور ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے جو اس طرح ان کی امیدوں کو توڑا ہے اس کے مقابل پر اگر وہ کوئی چیز قائم نہیں کرنا چاہتا تو اس کی کیا ضرورت تھی۔پس وہ چیزیں جو اللہ تعالیٰ پیدا کرنی چاہتا ہے وہ نیکی ، تقوی ، دیانت اور امانت ہے اور تمہیں چاہئے کہ غور کرو کیا تم نے ان چیزوں کو قائم کر لیا ہے اگر نہیں تو اس قدر مخلوق کی امیدوں کو توڑنا ، زلازل لانا ، آگئیں لگانا ، کوئی معمولی بات نہیں۔کیا وہ رحیم ہستی جو ذلیل سے ذلیل اور گنہگار سے گنہگا رانسان کو بھی اپنے دامنِ رحمت میں چھپا لیتی ہے اس نے یہ تباہی کے سامان یونہی پیدا کر دیئے ہیں۔کیا تم اپنے آپ کو اتنا پاکیزہ سمجھتے ہو کہ یہ سب کچھ تمہاری خاطر ہو رہا ہے۔کیا تم سمجھ سکتے ہو کہ تمہاری خاطر خدا نے دنیا کو تباہ کرنے کی ٹھان لی ہے۔جب تک تم اپنے عمل سے یہ ثابت نہ کرو کہ دنیا میں سے ہر شخص کا مال ، ہر شخص کی عزت و آبرو تمہارے ہاتھوں میں محفوظ ہے جب تک تم دوسروں کے لئے اپنی جان دینے کے لئے تیار نہیں ہوتے خدا تعالیٰ کو کیا ضرورت ہے کہ پہلے ظالموں کو مٹا کر ان کی جگہ اور ظالم ہی قائم کرے۔خدا تعالیٰ نیکی اور تقویٰ چاہتا ہے جب تم اسے قائم کرنے والے بن جاؤ گے اُسی دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لئے ایسی نصرت نازل ہو گی کہ دشمن خود بخود جھاگ کی طرح بیٹھ جائیں گے۔دنیا کی حکومتیں ، وزارتیں اور جائدادیں سب ہمارے لئے ہیں مگر ہم ابھی اس معیار سے نیچے ہیں جو اللہ تعالیٰ قائم کرنا چاہتا ہے اور اگر اسے قائم کئے بغیر ہمیں یہ چیزیں مل جائیں تو اللہ تعالیٰ پر اعتراض آتا ہے کہ اُس نے ایک ظالم کو مٹا کر اس کی جگہ دوسرا قائم کر دیا پس جس وقت تک تمہارے دلوں میں جھوٹ ، بد دیانتی، فریب ، دغا ، فساد وغیرہ کی کوئی ملونی بھی باقی ہے اُس وقت تک تم کسی کامیابی کے مستحق نہیں ہو۔جب تک اپنے دلوں کو پاک نہ کرو تم کسی فتح کے مستحق نہیں