خطبات محمود (جلد 16) — Page 487
خطبات محمود ۴۸۷ سال ۱۹۳۵ء پراگندہ ہو گیا اور صرف بارہ آدمی آپ کے ساتھ رہ گئے ، اُس وقت چار ہزار تجربہ کار تیر انداز جھاڑیوں میں بیٹھے تیروں کی بارش برسا رہے تھے ، سپاہی سب بھاگ چکے تھے اور یہی وقت لیڈر کی بہادری ظاہر ہونے کا تھا۔صحابہ نے آپ سے عرض کیا کہ يَا رَسُولَ اللَّهِ ا یہ آگے بڑھنے کا وقت نہیں جب تک لشکر دوبارہ جمع نہ ہو ، آپ بھی واپس چلیں حتی کہ ایک مخلص نے آگے بڑھ کر آپ کی سواری کی باگ پکڑ لی کہ خطرہ کی حالت ہے آگے جانا درست نہیں مگر آپ نے سواری کو ایڑ ھ لگائی اور أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبُ کہتے ہوئے آگے بڑھے۔اس کا مطلب یہ تھا کہ میں سچا نبی ہوں ، جھوٹا نہیں ہوں ، ایسے موقع پر بھاگ نہیں سکتا اور پھر تم یہ بھی خیال نہ کرنا کہ میں اپنے اندر خدائی طاقتیں رکھتا ہوں میں انسان ہوں اور عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔آخر اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان کر دیئے کہ لشکر پھر جمع ہو گیا اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی لیکن رسول کریم ﷺ نے اپنے عمل سے بتا دیا کہ آپ کسی خطرہ سے نہیں ڈرتے تھے مگر باوجود اس کے بدر کے موقع پر صحابہ نے بڑے اصرار سے آپ کے لئے پیچھے جگہ بنائی اور ایک تیز ر و اونٹنی پاس باندھ دی اور عرض کیا یا رَسُولَ اللہ المدینہ میں بعض ہمارے بھائی ہیں جنہیں علم نہ تھا کہ ایسی خطرناک جنگ ہونے والی ہے ورنہ وہ لوگ ہم سے کم اخلاص رکھنے والے نہ تھے ، وہ سب یہاں آتے ، اب کفار کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ہم تھوڑے ہیں ، ان کے پاس سامان بہت ہے اور ہمارے پاس کم ممکن ہے ہم مارے جائیں اس لئے ہم نے تیز ترین اونٹنی آپ کے پاس باندھ دی اور گارد مقرر کر دی ہے جو آخری دم تک آپ کی حفاظت کرے گی لیکن اگر گارد کے آدمی بھی مارے جائیں تو آپ اس اونٹنی پر سوار ہو کر مدینہ میں پہنچ جائیں ، وہاں ایک ایسی جماعت ہے جو اسلام کے ھے لئے اپنے خون کا آخری قطرہ بہارے گی۔صحابہ نے اُس وقت یہ نہیں کہا کہ آپ تو خدا کے رسول ہیں ، خدا کی خاص حفاظت میں ہیں آپ کو نمونہ دکھانا چاہئے ، آپ پہلے میدان میں نکلیں اور بعد میں ہم نکلیں گے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کی مثال تمہارے لیکچرار ہمیشہ دیتے ہیں اور میں بھی دیا کرتا ہوں اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے یہی کہا تھا۔اِذْهَبُ أَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا ههُنَا قَاعِدُونَ " کہ آپ جائیے۔آپ خدا کے رسول ہیں اس لئے آپ پر وہ کوئی مصیبت نہ لائے گا اور خدا پر تو کوئی مصیبت آ ہی نہیں سکتی اس لئے آپ دونوں جا کر لڑیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں جب فتح