خطبات محمود (جلد 16) — Page 474
خطبات محمود ۴۷۴ سال ۱۹۳۵ء علیہ الصلوۃ والسلام ایک مثل سنایا کرتے تھے کہ کوئی امیر آدمی تھا جس کے مطبخ میں سے کتے بہت سی چیزیں کھا جایا کرتے تھے۔جب اس کے باورچی خانہ کا خرچ بہت بڑھ گیا کیونکہ بہت سی چیزیں تو کتے کھا جاتے اور بہت سی چیزیں ان کے منہ ڈالنے کی وجہ سے بیکار ہو جاتیں تو اُس نے اخراجات کو کم کرنے کی کوشش کی اور جب اسے معلوم ہوا کہ باورچی خانہ کا دروازہ نہ ہونے کی وجہ سے کتنے اندر داخل ہو جاتے ہیں تو اُس نے حکم دیا کہ باورچی خانہ کو دروازہ لگا دیا جائے تا کہ کتے اندر داخل نہ ہو سکیں۔جب دروازہ لگ گیا تو سارے کتنے مل کر رونے لگے کہ اب تو ہم بھو کے مر جائیں گے۔جب سب نے مل کر رونا شروع کیا تو ایک بڑھا کتا آیا اور کہنے لگا روتے کیوں ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم بھو کے مر جائیں گے۔فلاں امیر کے باورچی خانہ سے کئی چیزیں کھا لیا کرتے تھے ہزاروں کی رسد اُس میں پڑی رہتی تھی اور بیسیوں چیزیں تیار ملتی تھیں مگر اب اس نے دروازہ لگوا دیا ہے۔وہ بڑھا کتا کہنے لگا پاگل ہو گئے ہو بھلا جس نوکر کو اس بات کی پروا نہیں ہوئی کہ تم وہاں سے چیزیں اُٹھا اٹھا کر کیوں کھاتے ہو وہ اس دروازہ کو بند کب کرے گا۔تو خالی ریزولیوشنوں سے کوئی نہیں ڈرا کرتا نہ لوگوں پر اس کا کوئی اثر ہوا کرتا ہے اور نہ عقل سے باہر نکل کر اپنے جذبات کا اظہار کرنے سے کوئی نتیجہ رونما ہوتا ہے۔اپنے آپ کو منظم کر دینا اور قانون کے ماتحت رہتے ہوئے استقلال اور حسنِ تدبیر سے اپنے مطالبات کے حصول کے لئے کوشش کرنا یہ وہ چیزیں ہیں جو انسان کو حقوق دلاتی ہیں۔اگر قادیان کے تمام افراد بھی نیشنل لیگ کے ممبر بننا چاہیں تو بن سکتے ہیں کیونکہ کوئی سرکاری ملازم نہیں۔جمعہ میں ہی تین ہزار کے قریب احمدی ہوتے ہیں اور اس تمام ضلع کی احمدی آبادی میرے نزدیک ۴۵ ہزار کے قریب ہے گو کبھی بھی صحیح طور پر مردم شماری کا ہمیں موقع نہیں ملا ( پچھلے دنوں میں نے ہدایت کی تھی کہ ضلع بھر کی احمدی مردم شماری کر کے میرے پاس رپورٹ کی جائے مگر افسروں نے سمجھا یہ مردم شماری صرف ان کے اپنے علم کے از یاد کیلئے ایک کھیل ہے میرے پاس انہوں نے رپورٹ کرنے کی ضرورت نہ سمجھی۔) بہر حال اگر جماعت کی تعداد اس سے نصف بھی ہو جتنی میں نے بیان کی ہے تب بھی تین ہزار آدمی ضلع گورداسپور سے نیشنل لیگ کا ممبر ہوسکتا ہے اور اگر باقی جماعتوں کے ممبروں کو اس میں شامل کر لیا جائے تو نیشنل لیگ کے ممبروں کی تعداد بہت زیادہ ہو سکتی ہے مگر افسوس ہے اس کی اہمیت کو ابھی تک لوگوں نے نہیں سمجھا۔اگر نیشنل لیگ اپنے ممبروں میں توسیع کرے تو زیادہ ذمہ داری