خطبات محمود (جلد 16) — Page 365
خطبات محمود ۳۶۵ سال ۱۹۳۵ء ہے اور جس ہتھیار سے کام لینے کا حکم ہے وہ سچائی کی تلوار ہے اور سچائی کی تلوار میں میں تم میں تقسیم کرتا ہوں تم انہیں لے لو کہ جس کے پاس یہ تلوار ہو گی وہ کامیاب ہوگا اور جس کے پاس یہ تلوار نہیں ہوگی وہ کامیاب نہیں ہو گا۔تم سچائی پر قائم ہو جاؤ ، جھوٹ کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ دو اور خواہ تمہاری جان جاتی ہو تم وہی بات کہو جو سچی ہو اور اس طرح خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرو ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ ہماری عزتیں، ہماری جانیں اور ہمارے اموال سب کچھ خدا تعالیٰ کے لئے قربان ہیں لیکن اگر ہم اپنی عزتیں بچانے کے لئے یا جان کی حفاظت کے لئے جھوٹ بولتے اور سچائی کو چھوڑ دیتے ہیں تو ہم کہاں قربانی کرتے ہیں۔پس تم اپنے نفوس کو ٹول ٹول کر ان میں سے جھوٹ کو نکال دو پھر اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے حالات پر نگاہ ڈالو اور اگر تمہیں ان میں جھوٹ کی تاریکی نظر آئے تو اُسے دُور کرو۔پھر اپنے ہمسایوں پر نگاہ ڈالو اور ان کو بھی اچھی طرح ٹول ٹول کر دیکھو پھر اگر ان میں جھوٹ نظر آتا ہے تو اسے بھی نکالنے کی کوشش کرو۔اگر تم اس طرح سچائی پر قائم ہو جاؤ گے تو یہ تلوارا ایسی ہے جس کا کوئی طاقت مقابلہ نہیں کر سکتی ہاں عارضی مشکلات بے شک آیا کرتی ہیں مگر وہ کوئی نئی بات نہیں ہماری جانیں آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ قیمتی نہیں کہ ہم یہ تو گوارا کر لیں کہ رسول کریم ہے پر مشکلات آئیں مگر یہ برداشت نہ کر سکیں کہ ہمیں بھی کوئی تکلیف پہنچے۔اگر ہم ایسا خیال کرتے ہیں تو ہم سے زیادہ متکبر اور خود پسند کوئی نہیں ہوسکتا۔محمد ﷺ کو اگر دکھ پہنچ سکتے تھے تو ان کے مقابلہ میں ہماری ہستی ہی کیا ہے کہ ہمیں مشکلات سے مستی کیا جائے۔تم اس مخلص صحابی کے اس قول پر نگاہ ڈالو جس نے کہا تھا میں تو یہ پسند نہیں کر سکتا کہ میں گھر پر آرام سے بیٹھا ہوا ہوں اور محمد ﷺ کے پاؤں میں کانٹا پجھ جائے۔پھر غور کرو کہ محمد ﷺ اور آپ کے صحابہ کی تکلیفوں کے مقابلہ میں تم بھی ان مصائب کے برداشت کرنے کیلئے تیار ہو یا نہیں ؟ تمہیں تو اس امر کے لئے آمادہ ہونا چاہئے کہ اگر محمد نے تیرہ سال مکہ معظمہ میں تکالیف برداشت کیں تو ہم اپنے آقا کی یاد میں اور اتباع میں ایک سو تیس سال تکلیفیں اٹھاتے چلے جائیں گے اور محمد میں اللہ کے لائے ہوئے دین کو دنیا میں قائم کر دیں گے۔کیا فائدہ ہے محض زبانی دعووں کا کیا فائدہ ہے باتیں بنانے اور وقت ضائع کرنے کا۔اگر ہم محمد کی لائی ہوئی تعلیم کو دنیا میں قائم نہیں کر دیتے اور قرآن مجید کی اشاعت دنیا کے کونے کونے میں نہیں کرتے تو ہمارے دعوے سب ڈھکو سلے ہیں اور ہم سے زیادہ قابل نفرت اور کوئی وجود نہیں۔پس