خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 309

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء کے کسی کو پھانسی پر لٹکایا گیا ہو۔کسی نے اسے کہا تم نے اُس دن تو بینگن کی اس قدر تعریف کی تھی اور آج اتنی مذمت کرتے ہو؟ اس پر وہ کہنے لگا ہم تو راجہ کے نوکر ہیں بینگن کے نہیں مگر ہماری یہ مثال نہیں، ہم تو اللہ تعالیٰ کے نوکر ہیں ہمیں نہ تو انگریزوں کی خوشنودی مد نظر ہے اور نہ احراریوں کی دشمنی۔ہمارے رویہ سے خواہ انگریز یہ دھوکا کھا ئیں کہ خوشامدی ہیں اور خواہ احراری اس غلط فہمی میں مبتلاء ہوں کہ یہ حکومت کے ایجنٹ ہیں مگر ہمیں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ ہر ایک کی نیکی دیکھو کیونکہ نیکی کو دیکھنے والی آنکھ ہی خدا تعالیٰ کو دیکھ سکتی ہے اب نیکی اگر احرار میں بھی کوئی ہو تو ہم اسے بھی بیان کریں گے ہمیں یہی حکم ہے کہ جس میں جو خوبی ہوا سے بیان کرو۔بیسیوں خوبیاں فرانسیسیوں اور جرمنوں میں ہیں اور ہم نے ان کے بیان کرنے میں کبھی بخل سے کام نہیں لیا پھر انگریزوں میں کوئی نقص ہو تو اسے بھی ہم بیان کرنے سے نہیں ڈرتے۔لارڈارون کے زمانہ میں جو اب لارڈ ہیلی فیکس ہیں جب مسر نیڈ وکو گرفتار کیا گیا تو میں نے انہیں چٹھی لکھی کہ عورت کو گرفتار کر نا ٹھیک نہیں۔پھر کانگرسیوں کو جن دنوں مارا جا تا تھا ، میں نے لکھا کہ یہ غلط طریق ہے اس سے ہمارے دل کو بھی چوٹ لگتی ہے، اس کی بجائے کوئی اور علاج ہونا چاہئے مگر انہوں نے یہ نہیں سمجھا کہ یہ جو کانگرسیوں کو زد وکوب کرنے پر معترض ہیں خود بھی کا نگری ہیں بلکہ میری چٹھی پر غور کیا گیا اور لارڈارون نے مجھے لکھا کہ آپ سر مونٹ مورنسی سے ملنے کے لئے ایک وفد بھیجیں جو ان کے ساتھ مناسب تجاویز پر DISCUSSION کرے اور پھر مجھے بھجوائیں چنانچہ اس طرح بعض تجاویز پر عمل بھی کیا گیا تو اچھی بات ہمیں جہاں بھی نظر آئے ہم اس کی تعریف کریں گے اور بُری جہاں بھی ہوگی اس کی مذمت کریں گے۔بعض افسر غلطیاں کر سکتے ہیں مگر احرار نے جو رویہ اختیار کیا ہے وہ بہت ہی عجیب ہے وہ اتنے خر ہو گئے ہیں کہ نیکی کی تعریف سے بھی آزاد ہو گئے ہیں چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ انگریزوں کی ہر چیز بُری ہے حتی کہ ملک معظم کی سلور جوبلی بھی ان کے لئے ماتم کا موقع ہے۔ظفر اللہ خان کا تقرر بھی بُری چیز ہے حالانکہ اگر وہ ہمیں مسلمانوں سے نکال بھی دیں تو بھی کبھی تو ہمیں بھی یہ حق ملتا ہے خواہ ہزار سال میں ہی سہی لیکن حق تو ہمارا بھی ہے پھر وہ پہلے مل گیا یا بعد میں انہیں اعتراض کا کون سا موقع ہے۔اوّل تو یہ غلط ہے کہ پنجاب میں ہماری آبادی چھپن ہزار ہے لیکن اگر اسے ہی صحیح سمجھ لیا جائے اور ہندوستان کے باقی احمد یوں کو چھوڑ دیا جائے تو بھی کبھی تو چھپن ہزار کی باری بھی آتی ہے چھپن ہزار آٹھ کروڑ کا پسر