خطبات محمود (جلد 16) — Page 300
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء ہی یہ بھی کہتے جاتے کہ ذہول ہو گیا۔خیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تھوڑی دیر بعد معاف کر دیا تو ہمارے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا فیصلہ موجود ہے۔میں جانتا ہوں کہ ڈائرسٹ (DIARIST) کے لئے ضروری ہے کہ جائے اور نوٹ لے کر اپنی جماعت کو اطلاع دے۔پھر اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ ان گالیوں کو ہم بعد میں کتاب کی صورت میں شائع کر دیں کیونکہ یہ بھی سلسلہ کی تائید کا ایک حصہ ہے لیکن اُس وقت اُس مجلس میں بیٹھنا، اس مجلس کے اعزاز کو بڑھانا ہے ہم انہیں کتابوں میں لکھنے پر مجبور ہیں کیونکہ آئندہ نسلوں کو ان باتوں سے آگاہ کرنا ضروری ہے مگر مجلس میں جا کر بیٹھنے سے نہ آئندہ نسلوں کو کوئی فائدہ ہے اور نہ موجودہ زمانہ کے لوگوں کو، اور جو ایسی مجالس میں جاتے ہیں وہ غیرت کو پامال کرتے ہیں۔پس میں جماعت کے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ڈائرسٹوں کے سوا ایسی مجالس میں کوئی نہ جائے جو پہلے جاتا تھا اس کے متعلق ماننا پڑے گا کہ وہ غیرت کے اعلیٰ مقام پر نہیں اور اس خطبہ کو سننے کے بعد اگر کوئی جائے گا تو میں سمجھوں گا کہ اس کے اندر غیرت ہے ہی نہیں لیکن اب تو یہاں یہ حالت ہو گئی ہے کہ ہمیں گھروں پر آ کر گالیاں دی جاتی ہیں مگر اس صورت میں بھی میں کہوں گا اپنے کانوں میں اُنگلیاں دے لو ، دروازے بند کر لو اور دعاؤں میں لگ جاؤا اچھی طرح یا درکھو کہ یہ کوئی بُزدلی نہیں بلکہ قوت کا موجب ہے جب ہم ہوا کو دباتے ہیں تو توپ کی طرح آواز پیدا ہوتی ہے اسی طرح جب تم اپنے جذبات کو دبانے کے عادی ہو جاؤ گے تو تمہارے اندر بم کی سی قوت پیدا ہوگی اور تمہارے اخلاق میں اصلاح پیدا ہوگی تبلیغ میں اثر ہوگا اور اسی چیز کی ہمیں ضرورت ہے۔گالی کا جواب گالی میں دے دینے سے کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔کسی نے بدمعاش کہا ہم نے بھی آگے سے اسے بدمعاش کہہ دیا اس کا فائدہ کیا ہوا ؟ فائدہ کی صورت یہ ہے کہ وہ گالیاں دیں اور تم دعائیں کرو، نمازیں پڑھو۔ذکر الہی سے تو ثواب حاصل ہوتا ہے مگر کیا تم نے کبھی کسی کتاب میں یہ بھی پڑھا ہے کہ گالی کا جواب گالی میں دینے سے بھی ثواب حاصل ہوتا ہے پس غیرت کو صحیح طور پر دکھاؤ۔غیرت یہ ہے کہ کوئی شخص تمہارے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر یا خلیفہ پر حملہ کرتا ہے تو تم کھڑے ہو کر کہو کہ اس کے جواب میں اتنے دن تبلیغ کے لئے وقف کرتا ہوں اور وہاں سے اُٹھ کر چلے جاؤ مگر عَلَى الاعلان یہ کہہ جاؤ کہ اس کے جواب کے لئے میں اتنے دن زیادہ تبلیغ کے لئے وقف کرتا ہوں اور اس طرح جو گند ان لوگوں کے اندر ہے اس کی اصلاح کروں گا یہ حقیقی