خطبات محمود (جلد 16) — Page 285
خطبات محمود ۲۸۵ سال ۱۹۳۵ء کے ۸۰ فیصدی لوگ سمجھتے ہیں کہ احرار محض فتنہ برپا کر رہے ہیں۔اس کے سوا ان کی کوئی اور غرض نہیں آج تو یہ لوگ کہہ دیں گے کہ چوہدری اسد اللہ خان صاحب ایک قانونی سوال کی وجہ سے رہ گئے مگر حلقہ سیالکوٹ کو ہی لے لو جب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب پنجاب کونسل کے ممبر منتخب ہونے والے تھے تو احرار نے کتنا زور لگا یا تھا کہ کسی اور کو ان کے مقابل پر کھڑا کر دیں مگر انہیں کوئی شخص نہ ملا۔اگر وہ آٹھ کروڑ مسلمانانِ ہند کے نمائندہ تھے تو اس وقت چوہدری صاحب بلا مقابلہ منتخب کس طرح ہو گئے۔اسی طرح پچھلے دنوں جب الیکشن ہو ا تو اس میں مولوی مظہر علی صاحب بھی کھڑے ہوئے اور شیخ عطا محمد صاحب بھی۔ہماری جماعت شیخ عطا محمد صاحب کی تائید میں تھی۔اس وقت احرار کے نمائندوں نے شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کے ذریعہ ہم سے خواہش کی کہ ہمارے ووٹ انہیں ملیں۔اگر احراری آٹھ کروڑ مسلمانوں کے نمائندے تھے تو ہماری طرف ہاتھ پھیلانے کی ضرورت انہیں کیوں محسوس ہوئی اور کیوں انہوں نے ہم سے اپنے لئے ووٹ مانگے۔گو یہ علیحدہ امر ہے کہ ہم نے ان کی درخواست کو نہ مانا اور کہا کہ وہ تحریری طور پر ہمیں درخواست لکھ کر دیں جس پر وہ آمادہ نہ ہوئے۔پس یہ غلط ہے کہ یہ لوگ آٹھ کروڑ مسلمانوں کے نمائندہ ہیں۔آٹھ کروڑ چھوڑ ۸۰ لاکھ مسلمانوں کے بھی نمائندے نہیں لیکن بہر حال یہ جو دعویٰ کرتے ہیں اپنی ذات میں بہت بڑا اور مسلمانوں کے لئے بہت بُرا ہے ہم نے کبھی سیاسی حقوق کے مطالبہ کے وقت دوسرے مسلمانوں میں اور اپنی جماعت میں فرق نہیں کیا۔ہم نے ہمیشہ ان کی تائید کی اور اپنی مقدرت سے زیادہ ان کے لئے قربانیاں کیں نہرور پورٹ کے شائع ہونے کے موقع پر اس کے خلاف آواز بلند کی اور اپنی مقدرت سے زیادہ مسلمانوں کے لئے کوششیں کیں ، راؤنڈ ٹیبل کا نفرنس کے موقع پر اپنی مقدرت سے زیادہ مسلمانوں کی مدد کی ، مسلمانوں کے جو نمائندے انگلستان گئے ان کی امداد کی ، ان میں لٹریچر تقسیم کیا مگر اس کے مقابلہ میں احراریوں کی طرف سے کوئی چیز پیش نہیں کی جاسکتی۔انہوں نے نہرورپورٹ کے وقت اس کی تائید کی اور راؤنڈ ٹیبل کا نفرنس کے موقع پر کچھ نہ کیا۔گویا ایک موقع پر مسلمانوں کی مخالفت کی اور ایک موقع پر کچھ بھی نہ کیا۔پھر ہمیشہ یہ مشتر کہ انتخاب کے حامی رہے ہیں اور اس کے لئے پُر زور جد و جہد کرتے رہے ہیں حالانکہ مسلمانوں کی اکثریت اس کے خلاف ہے۔ایسی جماعت کا یہ دعویٰ کرنا کہ وہ آٹھ کروڑ مسلمانانِ ہند کی نمائندہ ہے اور اس کی طرف سے اس کوشش کا ہونا کہ وہ مسلمانوں کے ایک حصہ کو