خطبات محمود (جلد 16) — Page 247
خطبات محمود ۲۴۷ سال ۱۹۳۵ء پر ان الفاظ میں اظہار خیال کرے گی جن میں میں نے کہا ہے۔میں نے مجسٹریٹ سے بھی الزام دور کرنے کی کوشش کی ہے اور کہا ہے کہ شاید اُسے غلط فہمی ہوئی ہو۔اس کے بعد میں دوستوں کو تو جہ دلاتا ہوں کہ اپنی اصلاح کریں خدا تعالیٰ چاہتا ہے ہماری اصلاح ہو۔تم دنیا کی طرف نگاہیں اُٹھا نا چھوڑ دو میں نے بے شک حکومت سے اپیل کی ہے مگر اس لئے نہیں کہ اس کے ساتھ میری امیدیں وابستہ ہیں بلکہ صرف اس لئے کہ میں سمجھتا ہوں شریف انسان پر جب حق کھل جائے تو وہ ظلم کے خلاف آواز اُٹھاتا ہے اور پولیٹیکل قوموں میں سے انگریز خصوصیت کے ساتھ ظلم کو برداشت نہیں کر سکتا اس لئے میں نے تو توجہ دلا دی ہے مگر میری سب امید میں اللہ تعالیٰ سے وابستہ ہیں۔حاکم اگر انصاف نہ کریں تب بھی مجھے یقین ہے کہ ہمارے ساتھ انصاف ضرور ہو گا۔ہاں اگر حاکم کریں گے تو وہ مظلوم کی مدد کے ثواب میں شریک ہوں گے اس لئے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی امید گاہ صرف اللہ تعالیٰ کو بناؤ اپنے اندر نیکی اور تقویٰ پیدا کر و خدا تعالیٰ تو حید سکھاتا ہے اور تم بھی روز لا اللہ کہتے ہو مگر یہ آسان کام نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بارہ فرمایا کرتے تھے کہ جو منگے سومر رہے جو مرے سومنگن جائے۔یہ کسی پرانے بزرگ کا قول ہے یعنی جو مانگتا ہے وہ مرجاتا ہے اور مرے بغیر کوئی مانگنے کے لئے نہیں جا سکتا آپ فرمایا کرتے تھے کہ جب تک انسان مرے نہیں اللہ تعالیٰ کے پاس بھی اس کی دعا قبول نہیں ہو سکتی اسی طرح تو حید بھی ایسا مسئلہ ہے کہ موت کے بغیر قائم نہیں ہوسکتا۔زید جو دعا کرتا ہے جب تک اس کا اپنا وجود موجود ہے وہ موحد نہیں کہلا سکتا۔تمہارا دعا کرنا ہی ثابت کرتا ہے کہ تم مشرک ہو اگر تم نے کامل تو حید کو پا لیا ہوتا تو میں کہاں رہ سکتی تھی جب تک مانگنے والا اور جس سے مانگنا ہے ایک نہیں ہو جاتے اُس وقت تک تو حید قائم نہیں ہوسکتی۔پس نفس کو مارو کہ یہ ” میں مٹ جائے۔تم کہو گے کہ یہ کیسی جہالت کی تعلیم ہے خدا تعالیٰ نے دعا کرنے کا حکم دیا ہے ، رسول کریم ﷺ نے تاکید کی ہے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس پر زور دیتے رہے جو امام الزمان تھے مگر میں کہوں گا کہ تم نے ان سب کے احکام کا مطلب ہی نہیں سمجھا۔دعائیں دوستم کی ہوتی ہیں ایک تو یہ کہ اے خدا! مجھے فلاں بات کی حاجت ہے مجھے دے۔یہ شرک ہے دعا سے پہلا مقام موت ہے یعنی انسان اپنے آپ کو خدا کے آستانہ پر گرادے اور کہے کہ اے خدا! میں راضی ہوں جہاں تو رکھنا چاہے وہیں رہنا پسند کروں گا اگر تو مارنا چاہتا ہے تو مروں گا، اگر غرق کرنا چاہتا ہے تو غرق ہونا ہی منظور ہے ، میں اپنی طرف سے تجھ