خطبات محمود (جلد 16) — Page 20
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء لوگوں کے سامنے پیش کر دیئے ہیں۔انہیں مد نظر رکھتے ہوئے چلتے جاؤ اور کوئی گالیاں بھی دے تو پرواہ نہ کرو۔عام طور پر یہ قاعدہ ہے کہ چرچے سے بھی جوش زیادہ ہو جاتا ہے۔یہی مکان جس میں اب انجمن کے دفاتر ہیں جب اس کا ایک مالک فوت ہوا تو عورتیں بین کر رہی تھیں۔پھر کئی قصے کہانیاں شروع ہو گئیں اور مرنے والے کی بیوی بھی دوسری باتوں میں مشغول ہو کر ہنسنے اور باتیں کرنے لگی۔اتنے میں باہر سے اور عورتیں روتی ہوئی آئیں۔اور ایک نے دوہتر مار کر پیٹنا شروع کر دیا اس پر وہ بیوی بھی پیٹنے لگی اور اس قدر ماتم کیا کہ بال نوچ ڈالے اور بدن کو لہو لہان کر دیا۔تو دوسروں کو روتا دیکھ کر بھی رونا آ جاتا ہے اس لئے دل میں فیصلہ کر لو کہ ہم نے ان باتوں کی طرف زیادہ توجہ نہیں کرنی۔بے شک بعض حکام نے اس وقت انصاف نہیں کیا مگر جب وقت آئے گا ہم یہ سب سود واپس لیں گے۔ایک پیسے کے پاس اس کا مقروض رقم لے کر جاتا ہے کہ لے لو تو وہ اسے ٹالنے کی کوشش کرتا ہے اور کہتا ہے کہ چوہدری صاحب آپ کے پاس ہوا یا ہمارے پاس ایک ہی بات ہے اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ سود چڑھتا جائے اور پھر چھ ماہ کے بعد اور سود لگا کر زیادہ رقم کا مطالبہ شروع کرتا ہے۔اسی طرح ان گالیاں دینے والوں کی رقمیں سود کے ساتھ واپس دی جائیں گی اور ایک وقت آئے گا کہ پبلک میں سے ظلم کرنے والوں اور حکام میں سے ان کا ساتھ دینے والوں کا سارا سود چکا دیا جائیگا اور خواہ بالا حکام کے ذریعہ سے یا خود ہی خدا تعالیٰ تمہارے صبر کا بدلہ دلا دے گا۔پس جماعت کو میری نصیحت یہی ہے کہ مقصود کو سامنے رکھو اور موجودہ شرارتوں کو بھول جاؤ۔یہ باتیں بالکل چھوٹی ہیں اگر چہ بعض حالات میں بڑی ہو جاتی ہیں اور مجھے بھی ان کی طرف توجہ کرنی پڑتی ہے۔مگر میں پسند یہی کرتا ہوں کہ ان باتوں کی طرف زیادہ توجہ نہ کی جائے۔تم بس یہ سمجھ لو کہ کہتا بھونک رہا ہے۔اگر کوئی پولیس کا ملازم قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو حکومت کے سامنے خود ملزم بن رہا ہے۔تم اسے ملزم بنا کر کیا کرو گے۔تم دعاؤں میں لگے رہو اور اللہ تعالیٰ سے تعلقات کو مضبوط کر و۔اس مبارک مہینہ میں اگر تم نے دعائیں کی ہیں تو پھر تمہیں کسی سے خطرہ کی ضرورت نہیں۔سچے دل سے کی ہوئی ایک منٹ کی دعا کے بعد بھی انسان کو اطمینان ہو جاتا ہے۔یہ خیال بھی مت کرو کہ رمضان ختم ہو گیا ہے رمضان