خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 226

خطبات محمود ۲۲۶ سال ۱۹۳۵ء ہے کہ وہ حملے سے بچنا چاہتا ہے۔خواہ تمہارا کتنا ہی گہرا دوست ہو اور اسے تم پر اعتبار بھی ہو، یہ نہیں ہو گا کہ وہ کھڑا رہے بلکہ اگر تم انگلی اس کی آنکھ کے پاس جلدی سے لے جاؤ گے تو اس کی آنکھ جھپک جائے گی اور سر پیچھے کی طرف جھک جائے گا اور اگر پیٹ کی طرف لے جاؤ گے تو وہ کانپ کر پیچھے ہٹ جائے گا۔چاہے حقیقت سے آگاہ ہو کر وہ تھوڑی دیر کے بعد ہنس پڑے مگر فوری طور پر وہ گھبرا جائے گا کیونکہ انسانی جسم کو یہ عادت ہے کہ وہ حملہ کا دفاع کرتا اور اپنے آپ کو اس سے محفوظ رکھتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت میں یہ بات رکھی ہے کہ وہ دوسروں کی نقلیں کرتا اور گردو پیش کے حالات کے مطابق اپنے آپ کو بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ان حالات کو دیکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ایک نصیحت کر دی ہے اور وہ یہ کہ تم نے نقل تو کسی کی ضرور کرنی ہے آؤ ہم تمہیں بتاتے ہیں لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ ع تم بجائے ہر ایک کی نقل کرنے کے محمد ﷺ کی نقل کر لیا کرو کیونکہ جب تم نے نقال بننا ہے اور اس کے بغیر تم گزارہ نہیں کر سکتے اور یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ ہر بات کی تم تحقیق کرو تو ضروری ہے کہ تم دوسروں کے پیچھے چلو اور جس طرح وہ کام کرتے ہیں اسی طرح تم بھی کرو۔اور درحقیقت انسان کی زندگی کے افعال میں سے ننانوے فیصدی وہ افعال ہوتے ہیں جو دوسروں پر اعتبار کر کے کئے جاتے ہیں اور ایک فیصدی بلکہ اس سے بھی کم وہ افعال ہوتے ہیں جنہیں ذاتی تحقیق کے بعد انسان سر انجام دیتا ہے اور میں سمجھتا ہوں میں مبالغہ نہیں کرتا اگر میں یہ کہوں کہ عام انسان کے افعال میں سے نانوے ہزار نو سوننانوے ایسے ہوتے ہیں جو نقل کے ماتحت کئے جاتے ہیں اور ایک کام وہ اپنی ذاتی تحقیق کے ماتحت سوچ سمجھ کر کرتا ہے۔اسوقت جو میں باتیں کر رہا ہوں اگر چہ سوچ سمجھ کر کر رہا ہوں مگر میرا دل جو کچھ کر رہا ہے اس میں میرے ارادہ کا دخل نہیں ، میرے اعضاء کی جو حرکات ہیں ان میں میرے ارادہ کا دخل نہیں ، میرے جسم میں جو خون دورہ کر رہا ہے یہ کسی میرے حکم کے ماتحت نہیں بلکہ آپ ہی آپ ایک عادت کے مطابق ہو رہا ہے۔میرے جسم کا ذرہ ذرہ اس وقت چیزوں کو محسوس کر رہا ہے مگر اس احساس میں میرا دخل نہیں۔یہ اعضاء کا کام ہے جو وہ خود بخود کر رہے ہیں۔میں اپنے جسم کے ان افعال کے نتیجہ میں ایک اثر تو قبول کر لیتا ہوں مگر اس کی تمام جزئیات سے واقف و آگاہ نہیں ہوتا اس لئے میرے نزدیک ننانوے ہزار نوسو ننانوے کام انسان سے بلا ارادہ سرزد ہوتے ہیں اور لاکھ میں سے ایک سوچ سمجھ کر ہوتا ہے باقی