خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 225

خطبات محمود ۲۲۵ سال ۱۹۳۵ء چاہئیں۔ایک روٹی کے لئے ایک پانی کے لئے اور ایک سانس کے لئے۔اس نے سمجھا کہ شاید اس کے سسرال اگر اسے کچھ تھوڑا کھلا ئیں اور اس کے معدہ کا تیسرا حصہ خالی رہے تو کچھ شرم رہ جائے۔وہ زمیندار کہنے لگا میرا طریق تو یہ ہے کہ ناک تک پیٹ بھر کر روٹی کھالیتا ہوں ، پانی آپ ہی آپ راہ بنا لے گا اور سانس آئے یا نہ آئے اس کی پرواہ نہیں اگر بھو کے رہے تو سانس لے کر کیا کرنا ہے در حقیقت اس کا مطلب یہی تھا کہ سانس آتا ہی رہے گا کیونکہ سانس آنے جانے کی اللہ تعالیٰ نے انسان میں ایک عادت پیدا کر دی ہے روٹی کیوں کم کھائی جائے تو اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کی انسان کو عادت ڈال دی ہے۔ہم سور ہے ہوتے ہیں اور ہمیں کچھ پتہ نہیں ہوتا مگر سانس برابر جاری ہوتا ہے اور دل و دماغ اپنے اپنے کام کر رہے ہوتے ہیں۔ہاں اگر دل کو ہاتھ سے پکڑ کر کوئی شخص بیٹھ رہے تو ایک منٹ میں وہ اپنا کام ختم کر دے گا۔یا کوئی شخص کسی کا سانس روک دے تو تھوڑے عرصہ میں ہی سانس آنے جانے کی عادت ختم ہو جائے گی۔تو بہت سی چیزیں دنیا میں عادت یا دوسروں پر اعتبار کرنے سے چلتی ہیں جسم کی اندرونی حرکات عادت پر اور جسم سے باہر کے کام اعتبار پر چلتے ہیں ہمیں بعضوں پر اعتبار ہوتا ہے اور ہم جھٹ ان کی بات بغیر تحقیق کئے مان لیتے ہیں، بعض پر اعتبار نہیں ہوتا تو ہم فوراً بغیر تحقیق کئے ان کی بات کو ر ڈ کر دیتے ہیں۔ایک ایسا شخص جس کے متعلق ہمیں معلوم ہو کہ وہ اکثر جھوٹ بولا کرتا ہے اگر ہمارے پاس آ کر کہتا ہے کہ فلاں بات یوں ہوئی تو ہم بغیر تحقیق کئے اسے جھوٹ قرار دیتے ہیں پھر ایک اور شخص ہمارے پاس ایسا آتا ہے جسے سچ بولنے کی عادت ہے اور ہمیں اسے سچا سمجھنے کی عادت ہو گئی ہے اور وہ بتاتا ہے کہ بات یوں ہوئی تو ہم کہہ دیتے ہیں کہ ٹھیک ہے حالانکہ ہم اس کی بات کی تحقیق نہیں کرتے۔تو اعتبار بھی درحقیقت ایک عادت کا نام ہے کیونکہ جس پر اعتماد ہو اس کی بات کی تحقیق کی ضرورت ہم نہیں سمجھتے۔ایک ایسے آدمی کے پاس چلے جاؤ جو آرام سے اپنے خیال میں مگن بیٹھا ہو اور تیزی سے اُنگلی اس کے پیٹ کی طرف لے جاؤ تو وہ فوراً کانپ جائے گا۔فرض کرو جس کے پیٹ کی طرف ہنسی مذاق میں تم تیزی سے اپنی انگلی لے جاتے ہو وہ تمہاری بیوی ہے اور تم اُس کے خاوند ہو یا وہ تمہارا بیٹا ہے اور تم اس کے باپ ہو یا وہ تمہارا بھائی یا دوست ہے یا اور کوئی قریبی تعلق رکھنے والا ہے مگر تم اس کے پیٹ کی طرف تیزی سے انگلی لے جا کر دیکھ لو وہ فوراً پیچھے کو بٹے گا اس لئے کہ انسانی جسم کو یہ عادت