خطبات محمود (جلد 16) — Page 156
خطبات محمود ۱۵۶ سال ۱۹۳۵ء نہیں ،سوال اس بولی کے سمجھنے کا ہے۔اگر تسبیح کی بولی کوئی شخص سمجھ لے تو اسے تسبیح کی آوازیں آنی شروع ہو جائیں گی اور اگر عشقیہ اشعار سے کوئی شخص مناسبت پیدا کر لے تو اسے وہ سنائی دینے لگتے ہیں تو يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ میں اسی امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے یعنی یا تو اس طرح جس کا حضرت مظہر جان جاناں صاحب نے ایک مثال میں ذکر کیا اور بتایا کہ زمین و آسمان کا ذرہ ذرہ اس کی تسبیح کرتا ہے یا اس طرح کہ ہماری تسبیح کے مقابلہ میں زمین و آسمان گونجتا اور اس سے تسبیح کی آوازیں پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔انہی معنوں کو اس سورۃ کی اگلی آیت بالکل واضح کر دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّنَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايْتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَللٍ مُبِينٍ - - فرما یا اگر زمین و آسمان کے ذرات کی تسبیح تمہیں سنائی نہیں دیتی اور تمہارے کان اس کے سننے سے بہرہ ہیں ، اگر تم نہیں جانتے کہ دریا کس طرح اس کی تسبیح کر رہے ہیں اور تمہارے کان اس کے سننے سے بہرہ ہیں، اگر تم نہیں جانتے کہ پہاڑ کس طرح اس کی تسبیح کر رہے ہیں اور تمہارے کان اس کے سننے سے بہرہ ہیں، اگر تم نہیں جانتے کہ ریت کے ذرات کس طرح اس کی تسبیح کر رہے ہیں اور تمہارے کان اس کے سننے سے بہرہ ہیں، تو آؤ اس کی تسبیح کی ہم تمہیں ایک مثال سناتے ہیں۔فرمایا ایک اُمی قوم تھی وہ خدا تعالیٰ کی تسبیح سے بالکل ناواقف تھی دنیا کے لوگ بھی نہیں سمجھ سکتے تھے کہ اس میں خدا تعالیٰ کی تسبیح ہونے لگے گی۔مکہ، مدینہ اور طائف کے لوگ محض شرک کو جانتے اور سمجھتے تھے۔کون کہہ سکتا ہے کہ وہ مشرک جو تو حید کے نام تک سے نا واقف تھے تو حید پر جانیں قربان کرنے والے بن جائیں گے اور کون انسان مکہ والوں اور مدینہ والوں اور طائف والوں اور یمامہ والوں کو دیکھ کر کہہ سکتا تھا کہ ان میں تسبیح کی آوازیں پیدا ہونی شروع ہو جائیں گی مگر فر ما یا هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّنَ رَسُولًا مِّنْهُمُ ہم نے اپنا ایک آدمی ان میں بھیجا جو روحانیت کی سُریں نکالنی جانتا تھا ، جس طرح میوزک کا ماہر پیانو کی تاروں کو بجا کر ان میں سے آواز میں پیدا کر لیتا ہے ناواقف آدمی آواز میں پیدا نہیں کر سکتا اسی طرح مکہ، مدینہ، طائف اور یمامہ والوں کی حالت تھی ان سے اگر آواز آتی تھی تو یہ کہ لات اچھا اور عربی اچھا۔تب ہم نے ان کی اس حالتِ زار کو دیکھ کر وہ رسول بھیجا جو دلوں کی سارنگیاں بجانے والا تھا اس