خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 148

خطبات محمود ۱۴۸ سال ۱۹۳۵ء بیہودہ بات ہوگی۔” خاکسار پیپرمنٹ کی آواز سننے کا جو اہل تھا اس نے اس آواز کو سن لیا اور جن کے اس آواز کو سننے اور سمجھنے کے کان نہیں ہیں وہ اس آواز کو کیسے سن سکتے ہیں۔جس طرح ایک ان پڑھ کے سامنے اگر انجینئر نگ کی کتاب رکھ دی جائے تو وہ سوائے اس کے کچھ نہیں کہے گا کہ لکیریں کچھی ہوئی ہیں۔بلکہ اب تو لوگ تعلیمی زمانہ میں ہونے کی وجہ سے سمجھتے ہیں کہ یہ کتاب ہے اور اس میں کچھ لکھا ہوا ہے اگر ایک ایسا ان پڑھ آدمی ہو جسے پتہ ہی نہ ہو کہ کتاب کیا ہوتی ہے اگر اس کے سامنے کتاب کھول کر رکھ دو تو وہ کیا کہے گا ، یہی کہے گا کہ سیاہی گرمی ہوئی ہے۔مشہور ہے کہ ایک انگریز نے افریقہ کے قبائل پر اسی بناء پر قبضہ کیا کہ ایک دفعہ اس نے ایک لکڑی پر کوئلہ سے کچھ لکھ کر ایک حبشی کو بلایا اور اسے کہا کہ یہ لکڑی وہ اس کے گھر لے جائے اور اس کی بیوی جو چیز دے وہ لیتا آئے۔وہ کہنے لگا میں کونسی چیز لاؤں ؟ انگریز کہنے لگا کہ یہ لکڑی خود بتا دے گی کہ کس چیز کی ضرورت ہے۔جب وہ لکڑی اس نے بیوی کو لا کر دی تو اس نے وہ پُر زہ نکال کر جو اُس نے مانگا تھا دے دیا۔حبشیوں پر اس کا اتنا اثر ہوا کہ وہ اس لکڑی کو پوجنے لگ گئے۔تو نا واقف اور ان پڑھ آدمی سمجھ ہی نہیں سکتا کہ کتاب وغیرہ میں کیا لکھا ہے مگر پڑھے ہوئے آدمی کے لئے وہی لکھی ہوئی چیز بو لنے لگ جاتی ہے۔ان پڑھ ممکن ہے یہی خیال کرنے لگے کہ یہ تحریر با تیں کرتی ہے۔پس یہ مخالف معرفت سے تو دور کا بھی تعلق نہیں رکھتے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات پر اعتراض کرنے اور ہنسی اڑانے لگ جاتے ہیں۔دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں جو نہ بولتی ہو، پیپر منٹ بھی بولتا ہے اور دوسری چیزیں بھی مگر ان کی آواز سننے کے لئے وہ کان چاہیں جن کی ضرورت ہے حدیثوں میں آتا ہے رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ایک درخت جس سے آپ ٹیک لگا یا کرتے تھے جب آپ کا ممبر بنا اور آپ نے اُس درخت پر سہارا لگا نا چھوڑ دیا تو وہ رو پڑا۔اگر پیپر منٹ کے کلام کرنے پر ہنسی جائز ہے تو پھر یہاں بھی ہنسی جائز ہو سکتی ہے لیکن اگر وہاں یہ کہا جائے کہ وہ شخص جھوٹ بولتا ہے جو کہتا ہے کہ درخت نہیں رویا ، البتہ اس رونے کی آواز سننے کے لئے کان چاہیں۔یا یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کی آواز محمد ﷺ ، حضرت ابو بکر اور اسی مذاق کے دوسرے لوگ سن سکتے تھے تو یہاں بھی جو اُس آواز کے سننے کا اہل تھا اُس نے سن لیا مگر جو ادنی درجہ کے لوگ ہیں وہ تو ان باتوں پر ہنسی ہی اُڑائیں گے۔جیسے مثلاً گراموفون کسی نا واقف کود وا اور اس سے دریافت کرو کہ