خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 9

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء ضروری ہے کیونکہ اب یہی اسلامی طریق ہے اور اب جو ڈھال کی پناہ میں نہیں آئے گا وہ دشمن کے تیر کھائے گا۔بہر حال اس سال کے لئے ہمارا پروگرام یہی ہے اور ہر احمدی کو یہی چاہئے کہ اسے یاد کر لے اور اس پر عمل کرے۔میرے دل میں یہ تحریک ہو رہی ہے کہ اس سکیم کے چارٹ تیار کرائے جائیں اور پھر انہیں ساری جماعت میں پھیلا دیا جائے۔ہر احمدی کے گھر میں وہ لگے ہوئے ہوں تا سوتے جاگتے ، اٹھتے بیٹھتے ، کھاتے پیتے ان پر نظر پڑتی رہے۔ہمارے خطیب ہر ماہ کم سے کم ایک خطبہ میں نئے پیرا یہ میں اسے دُہرا دیا کریں تا احساس تازہ رہے۔پھر ہمارے شاعر اردو اور پنجابی نظمیں لکھیں جن میں سکیم ، اس کی ضرورتیں اور فوائد بیان کئے جائیں جو بچوں کو یاد کر وا دی جائیں اور اگر اس طریق پر سال بھر کا م کیا جائے تو جماعت میں بیداری پیدا کی جاسکتی ہے۔ایک دوست کا مجھے خط آیا ہے کہ ایک بڑے سرکاری افسر نے ان سے کہا کہ ہماری رپورٹ یہ ہے کہ اس سکیم کا جواب جماعت کی طرف سے اس جوش کے ساتھ نہیں دیا گیا لیکن کیا ہی عجیب بات ہے کہ حکومت قرضہ مانگتی ہے جس میں قرضہ دینے والوں کو زیادہ سے زیادہ نفع دیا جاتا ہے اور پھر اگر وہ دو گنا بھی ہو جائے تو تاریں دی جاتی ہیں کہ قرضہ میں بہت کامیابی ہوئی ہے لیکن ہم نے جس قدر طلب کیا تھا اس سے اڑھائی گنا آ جانے کے باوجود انہیں اس میں کامیابی نظر نہیں آتی اور وقت مقررہ کے ختم ہونے تک إِنْشَاءَ اللهُ الْعَزِیز پونے تین گنے بلکہ ممکن ہے اس سے بھی زیادہ آ جائے۔مگر وہ قرض کے دو گنا وصول ہونے کو کامیابی سمجھتے ہیں مگر میرے اس مطالبہ کے جواب میں انہیں کا میابی نظر نہیں آتی حالانکہ میں نے جو مانگا ہے اس کی واپسی نہیں ہو گی۔وہ قرض نہیں چندہ ہے۔سوائے امانت فنڈ کے کہ وہ بے شک امانت ہے اور واپس ملے گا۔جو لوگ اسے کامیابی نہیں سمجھتے وہ دنیا کی کسی اور قوم میں اس کی مثال تو پیش کریں اور پھر ہم نے جو لیا ہے ،غریبوں کی جماعت سے لیا ہے کروڑ پتیوں اور لکھ پتیوں سے نہیں لیا گیا۔کروڑ پتی تو ہمارے مطالبہ سے بھی زیادہ رقم کی موٹریں ہی خرید لیتے ہیں۔بعض انگریزی موٹریں ایسی ہیں جن کی قیمت ساٹھ ہزار سے ایک لاکھ تک ہوتی ہے اس لئے ایسے لوگوں کیلئے ستائیس ہزار کی قربانی کوئی بڑی بات نہیں مگر ہماری جماعت کی مالی حیثیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر دیکھا جائے تو یہ بہت بڑی کامیابی ہے اور جو لوگ اسے کامیابی نہیں سمجھتے ، میں ان سے کہتا ہوں کہ