خطبات محمود (جلد 16) — Page 8
خطبات محمود Δ سال ۱۹۳۵ء پس میں نے جماعت کی کشتی کا لنگر توڑ دیا ہے کہ خدا تعالیٰ کشتی کو جہاں چاہے لے جائے کیونکہ ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارے لئے کس ملک میں ترقی کے لئے زیادہ سامان مہیا کئے گئے ہیں۔پس یہ مت خیال کرو کہ دس ہیں یا سو دو سو روپیہ دے دیا اور فرض ادا ہو گیا یہ تو ادنی ترین قربانی تھی۔سکیم کے اصل حصے دوسرے ہیں جو زیادہ اہم ہیں اور جب تک ہر فردِ جماعت اس کی طرف توجہ نہ کرے اور اس احتیاط کے ساتھ ان پر عمل نہ کرے جس کے ساتھ ایک لائق اور ہوشیار ڈاکٹر اپنے زیر علاج مریض کو پر ہیز کرواتا ہے ، اس وقت تک فائدہ نہیں ہو سکتا۔میں نے اپنی ذات میں بھی تجربہ کیا ہے اور باہر سے بھی بعض دوستوں کے خطوط آئے ہیں کہ پہلے یہ خیال رہتا تھا کہ فلاں خرچ کس طرح پورا کریں مگر اب یہ خیال رہتا ہے کہ اس خرچ کو کس طرح کم کریں اس پر عمل کرنے سے اور بھی بعض فوائد حاصل ہوتے ہیں۔مثلاً ہمارے گھر میں لوگ تحائف وغیرہ بھیج دیتے ہیں اور میں نے ہدایا کو استعمال کرنے کی اجازت دے رکھی ہے مگر جب وہ میرے سامنے لائے جاتے ہیں تو میں کہتا ہوں کہ ایک سے زیادہ چیزیں کیوں ہیں۔کہا جاتا ہے کہ یہ کسی نے تھی بھیج دیا تھا۔تو میں کہتا ہوں کہ ہمارے تعلقات تو ساری جماعت سے ہیں اس لئے ہمارے ہاں تو ایسی چیزیں روز ہی آتی رہیں گی اس لئے جب ایسی چیزیں آئیں تو کسی غریب بھائی کے ہاں بھیج دیا کرو، ضروری تو نہیں کہ سب تم ہی کھاؤ۔اس سے غرباء سے محبت کے تعلقات بھی پیدا ہو جائیں گے اور ذہنوں میں ایک دوسرے سے اُنس پیدا ہو گا۔کئی دوست لکھتے ہیں کہ اس سکیم کے ماتحت تو ہمیں فلاں خرچ بھی ترک کرنا پڑتا ہے اور میں انہیں جواب دیتا ہوں کہ یہی تو میری غرض ہے۔پس اس سکیم میں میں نے جو جو تحریکیں کی ہیں ، وہ ساری کی ساری ایسی ہیں کہ ان پر عمل کرنے سے تخفیف کی نئی نئی راہیں نکلتی ہیں اور ان کے نتیجہ میں ہم اپنی حالت کو زیادہ سے زیادہ اسلامی طریق کے مطابق کر سکتے ہیں۔میں ان لوگوں سے متفق نہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہمارا پہلا طریق اسلامی نہیں تھا۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے اسلامی طریق یہی ہے کہ الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ ور ان کے یعنی وہ قربانی کرو جس کا امام مطالبہ کرتا ہے۔جب وہ کوئی مطالبہ نہ کرے، اس وقت حلال وطیب کو دیکھنا چاہئے لیکن جہاں وہ حکم دے وہاں حلال و طیب کو بھی چھوڑ دینا چاہئے۔( ہاں مگر یہ ضروری ہے کہ یہ وقتی قربانی ہو اور اسلام کے دوسرے اصولوں کے مطابق ہو۔بدعت کا رنگ نہ ہو ) غرض میں پہلے طریق کو نا جائز قرار نہیں دیتا مگر اب جو طریق میں نے تجویز کیا ہے اس پر عمل کرنا