خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 63

خطبات محمود سال ۱۹۳۴ تو مرا - بندوق ہوائی تھی اور کوئی ایسی طاقتور نہ تھی لیکن اس بندوق سے بھی بعض اوقات جانور مرجاتے ہیں اگر چھرہ لگ جائے اور بعض اوقات لگنے کے باوجود بھی اُڑ جاتے ہیں۔اس دن ایسا اتفاق ہوا کہ جن کے چھترہ لگا وہ بھی اُڑ گئے اور جن کے نہ لگا انہوں نے تو اُڑنا ہی تھا۔جب ہم واپس آرہے تھے تو اس دوست نے نہایت حقارت سے کہا کہ یہ بھی کوئی بندوق ہے۔اگر - میری آنکھ پر لگے تو بھی قطعا کوئی نقصان نہ ہو۔میں نے کہا یہ بندوق معمولی سہی مگریہ مگر یہ بھی تو مبالغہ ہے اگر آنکھ ضائع نہ ہو تو کم سے کم چوٹ تو ضرور آئے گی۔مگر وہ کہنے لگے کہ ہر گز چوٹ نہیں لگ سکتی، لو مارو۔میں نے بہتیرا ٹالا اور کہا کہ یہ بندوق خواہ کتنی بے ضرر سہی مگر آنکھ بھی تو بہت نازک چیز ہے۔مگر وہ ایسے پیچھے پڑے کہ کہا میں چیلنج کرتا ہوں، مار کر دیکھ لو۔میرا بھی بچپن تھا۔میں نے دس پندرہ گز پر کھڑے ہو کر ان کی آنکھ کا نشانہ لگایا۔چھترہ کنپٹی پر لگا اور اگرچہ زخم تو نہ ہوا مگر معلوم ہوا ان کے چوٹ ضرور آئی۔اس کے بعد وہ میرے ساتھ چل پڑے اور کہنے لگے آپ نے بڑا ظلم کیا۔اگر میری آنکھ میں لگ جاتا تو کیا ہوتا۔میں نے کہا آپ خود ہی تو کہتے تھے اور چیلنج کرتے تھے کہ مارو۔وہ مجھ سے عمر میں بڑے تھے۔مگر کہنے لگے میری تو یہ بیوقوفی تھی کہ میں نے زور دیا مگر آپ نے بھی مار ہی دیا۔اگر لگ جاتا تو کیا ہوتا۔میں نے کہا اچھا جانے دو لگا تو نہیں مگر وہ سارا راستہ خاموش رہے۔اور جب میں ان کو ہنسانے کی کوشش کرتا چونکہ وہ میرے دوست تھے تو وہ یہی کہتے کہ اگر صرف آدھ چاول کے برابر نشانہ ادھر لگتا تو کیا ہوتا اور اس کے بعد بغیر کسی اور واقعہ کے میرے ساتھ ان کے تعلقات آہستہ آہستہ کمزور ہوتے گئے اور گو ہم میں اختلاف کبھی نہ ہوا مگر دوستانہ رنگ بدلتا ہوا کم ہو گیا۔محض اس لئے کہ انہیں یہ خیال ہو گیا کہ اگر نشانہ لگ جاتا تو کیا ہوتا۔یہ واقعہ سالہا سال کے بعد آج مجھے یاد آیا ہے جو میں نے یہ بتانے کے لئے سنادیا ہے کہ کسی خطرناک چیز کے اس قدر قریب سے گزرنے پر کہ انسان بال بال بچ سکے، اس کی ہیبت دل پر ضرور باقی رہتی ہے۔بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ ایک شدید حادثہ سے ایک شخص کی کو جان بچ گئی مگر اس کا رنگ زرد ہو گیا یا بال سفید ہو گئے اور عمر بھر اس پر اثر باقی رہا۔اور اگرچہ نجات ہو گئی مگر اتنا صدمہ ہوا کہ کمزور دل ساری عمر اس کے اثر سے نجات نہ پاسکے، پس یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ایسے کئی حادثات ہماری جماعت پر گزرے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت سے لے کر وفات تک کئی ایسے حوادث جماعت پر آئے۔خود حضرت مسیح موعود