خطبات محمود (جلد 15) — Page 62
خطبات محمود ۶۲ ٨ ابتلاؤں کے دن (فرموده ۲ مارچ ۱۹۳۴ء) سال ۴۱۹۳۴ تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔الہی سلسلوں پر وقتاً فوقتاً ایسے ابتلاء آتے رہتے ہیں کہ جو بظاہر کچل دینے والے اور تباہ کر دینے والے ہوتے ہیں لیکن مومنوں کے استغفار کے نتیجہ میں اور معیتِ نبوت کی برکت سے اللہ تعالی کے فضل ایسے رنگ میں نازل ہوتے ہیں کہ نظر آنے والے شدید طوفان ایک حباء کی طرح اُڑ جاتے ہیں۔مگر یہ حفاظت اور بچاؤ ایسا ہی ہوتا ہے جیسے کسی کے سر کے پاس سے بلکہ اس کی جلد کو چھیدتی ہوئی گولی اس طرح گزر جائے کہ ایک چاول بھر اس کے مقام کا بدل جانا اس شخص کے لئے ہلاکت کا موجب ہو سکتا ہو۔یہ حفاظت اور نجات ایسے باریک فرق سے ہوتی ہے کہ جس کا خیال کر کے بھی انسان کا دل کانپ جاتا ہے۔اس کے متعلق مجھے اپنے بچپن کا ایک واقعہ یاد آگیا۔جب میں چھوٹا تھا تو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے خواہش ظاہر کی کہ مجھے ہوائی بندوق لے دیں چنانچہ آپ نے مجھے بندوق منگوادی۔اس زمانہ میں یہاں کالج کی جماعتیں کھلی ہوئی تھیں۔اُن دنوں کالج کے لئے ایسے شرائط نہ تھے جیسے آج کل ہیں۔یہاں انٹرنس کے بعد ایف اے کی کلاسیں بھی جاری تھیں۔ایک طالب علم جو آب ڈاکٹر ہیں ایف اے کی کلاس میں پڑھتے تھے اور میرے ساتھ اُن کا بڑا تعلق تھا۔شکار کا شوق اُن کو بھی تھا اور مجھے بھی۔ایک دن وہ اصرار کے ساتھ مجھے شکار کیلئے لے گئے۔ہم قادیان سے باہر چلے گئے مگر اُس دن کوئی جانور اس بندوق سے نہ