خطبات محمود (جلد 15) — Page 468
خطبات محمود ۴۶۸ ١٩٣ء بیچنے لگ جائیں، ریز روفنڈ کیلئے روپیہ جمع کرنے کا کام شروع کردیں غرض کوئی شخص بیکار نہ رہے۔خواہ اسے مہینہ میں دو روپے کی ہی آمدنی ہو کیونکہ دو بہر حال صفر سے زیادہ ہیں۔بعض بی۔اے کہتے ہیں کہ ہم بیکار ہیں ہمیں کوئی کام نہیں ملتا میں انہیں کہتا ہوں دو روپے بھی اگر وہ کماسکیں تو کمائیں۔میں نے جس قدر حساب پڑھا ہے اس سے مجھے یہی معلوم ہوا ہے کہ دو روپے صفر سے زیادہ ہوتے ہیں۔غرض کوئی احمدی نکما نہ رہے اسے ضرور کوئی نہ کوئی کام کرنا چاہیئے۔۔اٹھارھواں مطالبہ باہر کے دوستوں سے میں یہ کرتاہوں کہ قادیان میں مکان بنانے کی کوشش کریں۔اس وقت تک خدا تعالی کے فضل سے سینکڑوں لوگ مکان بناچکے ہیں مگر ابھی بہت گنجائش ہے۔جوں جوں قادیان میں احمدیوں کی آبادی بڑھے گی ہمارا مرکز ترقی کرے گا اور غیر عنصر کم ہوتا جائے گا۔غیر عصر کو کم کرنے کے دو ہی طریق ہیں۔یا تو یہ کہ وہ یہاں سے چلا جائے اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں۔یا یہ کہ ہماری آبادی بڑھنے سے ان کی آبادی کی نسبت کم ہو جائے اور یہ ہمارے اختیار کی بات ہے۔جب ہم اپنے آپ کو بڑھاتے جائیں گے تو غیر عصر خود بخود کم ہوتا جائے گا ہاں یاد رکھو کہ قادیان کو خداتعالی نے سلسلہ احمدیہ کا مرکز قرار دیا ہے۔اس لئے اس کی آبادی اُنہیں لائنوں پر چلنی چاہیے جو سلسلہ کیلئے مفید ثابت ہوں۔اس موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے میری تاکید ہے کہ قادیان، بھینی اور ننگل کے ہوا سردست اور کسی گاؤں سے آبادی کیلئے زمین نہ خریدی جائے۔ابھی ہمارے بڑھنے کیلئے بھینی اور ننگل کی طرف کافی گنجائش ہے۔ننگل کے لوگ خوشحال ہیں اور زمین فروخت نہیں کرتے ان کی اس حالت کو دیکھ کر ہمیں خوشی ہوتی ہے۔بھینی والے اپنی زمین بیچتے رہتے ہیں مگر اس لئے نہیں کہ وہ اپنی زمین زیادہ قیمت پر بیچ کر اور جائداد پیدا کرتے ہیں بلکہ غربت کی وجہ سے بیچتے ہیں اس بات کا ہمیں افسوس ہے۔کاش! وہ پہلی زمینیں فروخت کر کے فروخت کردہ زمین سے زیادہ زمین دوسرے گاؤں میں خریدتے تو ہمارے لئے دوہری خوشی کا موجب ہوتا۔یہ مطالبات ہیں جو میں جماعت کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔ان میں سے ہر ایک لمبے غور اور فکر کے بعد تجویز کیا گیا ہے اور ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو سلسلہ کی ترقی میں ممد نہ ہو۔ان میں سے ہر ایک پیج ہے ایسا بیج جو بڑی ترقی پانے والا اور بہت بڑا درخت بننے والا اور دشمنوں کو زیر کرنے والا ہے۔ان میں سے کوئی ایک چیز بھی نظر انداز