خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 459

سال ۱۹۳۴ء خطبات محمود ۴۵۹ کیلئے خرچ کیا جائے۔یا خود دوسروں پر جو حملے کئے جائیں ان میں خرچ ہو۔اب تو بجٹ نپا تلا ہوتا ہے اتنی رقم مبلغین کی تنخواہوں کی اتنی مدرسین کی اتنی وظائف کی اور اتنی لنگر کی اتنی کلرکوں اور اتنی ناظروں کی تنخواہوں کی اور بس۔مگر ہنگامی خرچ ساڑھے تین لاکھ کے بحبٹ میں دس ہزار یا اس سے بھی کم نکلے گا۔حالانکہ اصل چیز جس سے جماعت کی ترقی ہو سکتی ہے ہنگامی کام ہی ہے۔ہم سارے ملک کا سروے کریں اور دیکھیں کہ کہاں کہاں کامیابی ہو سکتی ہے اور پھر وہاں زور دے دیں۔اب تو اگر کوئی موقع نکلے تو بھی اخراجات کی مشکلات کی وجہ سے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔پچھلے دنوں بنگال کے متعلق معلوم ہوا کہ وہاں ایک پیر صاحب فوت ہوئے ہیں جنہوں نے اپنے مریدوں کو کہا تھا کہ امام مہدی آگئے ہیں، ان کی تلاش کرو۔ہمارے ایک دوست نے ان میں تبلیغ کی اور ان میں سے بعض نے مان لیا لیکن بعض نے کہا کہ ہم میٹنگ کر کے سب کے سب اکٹھے فیصلہ کریں گے۔میں نے ایک مبلغ کو مقرر کیا کہ ان لوگوں سے جاکر ملے اور انہیں فیصلہ کرنے میں مدد دے مگر تین چار ماہ کے بعد دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ مبلغ جاکر شہر میں بیٹھا ہوا ہے اور جن علاقوں میں وہ لوگ ہیں وہاں نہیں جاسکا کیونکہ دعوت و تبلیغ کا محکمہ سفر خرچ کا انتظام نہیں کرسکا اور اس طرح ہیں تھیں ہزار آدمی کی ہدایت کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا۔کیونکہ اس عرصہ میں مخالفت اس علاقہ میں تیز اور وہ لوگ ڈر گئے۔تو کئی ایسے مواقع ہوتے ہیں کہ ہنگامی خرچ کرنے سے بہت بڑی کامیابی حاصل ہو سکتی ہے یا جماعت کے اثر اور وقار میں بہت بڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔مگر اخراجات نہ ہونے کی وجہ سے ہاتھ بندھے ہوتے ہیں کیونکہ جس قدر آمد ہوتی ہے مقررہ اخراجات پر ہی صرف ہو جاتی ہے۔دراصل خلیفہ کا کام نئے سے نئے حملے کرنا اور اسلام کی اشاعت کیلئے نئے سے نئے رستے کھولنا ہے مگر اس کیلئے بجٹ ہوتا ہی نہیں سارا بجٹ انتظامی امور کیلئے یعنی صدر انجمن کیلئے ہوتا ہے۔نتیجہ یہ ہے کہ سلسلہ کی ترقی افتادی ہو رہی ہے اور کوئی نیا رستہ نہیں نکلتا۔ہم کوئی نئی کوشش نہیں کر سکتے۔اسی لئے میں نے اس وقت کہا تھا کہ دس سال کے اندر اندر ایسے تغیرات ہونے والے ہیں کہ ہندوستان کی حالت بدل جائے گی اور اب ایسا ہی ہو رہا ہے۔بالشوزم (BOLSHEVISM) ہندو اور مسلمانوں میں پھیل رہی ہے اور یہ دجالیت کا فتنہ کہیں احراریوں کی شکل میں، کہیں کسان سبھا کی صورت میں اور کہیں کے نام کے نیچے کام کر رہا ہے یہ سب ایک ہی رُوسی بالشویک کی شاخیں ہیں خواہ سو شلزم م