خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 441 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 441

خطبات محمود اسلام موم سال ۱۹۳۴ء کام میں اس کا ہاتھ بٹاتا ہے اس کی اسے قدر کرنی چاہیئے۔پس میں نے عورتوں کے اخلاص کی قدر کرتے ہوئے انہیں یہ تجویز بتائی کہ جس طرح قادیان میں بھی اور باہر بھی کمیٹیاں ڈالی جاتی ہیں اور جن کے نام کا قرعہ نکلے، ان کے نام سے ان تحریکوں میں رقم جمع کرا دیں۔مثلاً اگر ایک سو یا دو سو عورتیں ان تحریکوں میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتی ہیں تو وہ سب مل کر کمیٹی ڈال لیں اور اس میں روپیہ روپیہ یا دو دو روپے دیتی رہیں ہر ماہ جتنی رقم جمع ہو اس کیلئے قرعہ ڈال لیں۔مثلاً اگر سو روپے کی رقم ہو تو دس دس روپے کے قرعے جن دس عورتوں کے نام نکلیں ان کی طرف سے اس تحریک میں جمع کرا دیں اسی طرح اگلے مہینے اور دس عورتوں کے نام جمع کرا دیں۔اگر مردوں میں سے بھی بعض غرباء اس رنگ میں حصہ لینا چاہیں تو وہ بھی ایسا کر سکتے ہیں مگر ضروری ہوگا کہ دس کی رقم یا پانچ کی رقم اگر اس تحریک میں حصہ لے جس کیلئے کم سے کم پانچ روپے کی رقم مقرر ہے خزانہ میں یکمشت جمع کرائی جائے۔گو اصل مخاطب ان تحریکوں کے آسودہ حال لوگ ہیں رستہ ان کیلئے کھلا ہے جو ثواب حاصل کرنے کی شدید خواہش رکھتے ہیں اور کسی نیک کام میں بھی دوسروں سے پیچھے نہیں رہنا چاہتے۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ایک دفعہ غرباء نے آپ سے شکایت کی کہ یا رسول اللہ ! ہم جہاد کیلئے جاتے ہیں تو ہمارے اُمراء بھائی بھی جاتے ہیں، ہم نمازیں پڑھتے ہیں تو وہ بھی پڑھتے ہیں، ہم روزے رکھتے ہیں تو وہ بھی رکھتے ہیں، ہم ذکر الہی کرتے ہیں تو وہ بھی کرتے ہیں مگر مشترک ضرورتوں اور دینی کاموں کیلئے جب مال دینے کا وقت آتا ہے تو وہ دیتے ہیں ہم نہیں دے سکتے ، وہ زکوۃ دیتے ہیں مگر ہم نہیں سکتے وہ صدقہ و خیرات کرتے اور غرباء کی مدد کرتے ہیں مگر ہم نہیں کرسکتے۔غرض وہ کئی کے ثواب حاصل کرتے ہیں مگر ہم محروم رہتے ہیں اور ان کو ہم پر فوقیت حاصل ہے کیونکہ ہم ثواب کے کاموں میں ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔یا رسُول اللہ ! ہمیں بتائیں ہم کیا کریں تا کہ ان کی طرح ثواب حاصل کر سکیں۔یہ جوش اور یہ سوال بتاتا ہے کہ کچی مخلص جماعتوں میں یہ سوال نہیں پیدا ہوا کرتا کہ فلاں ایسا نہیں کرتا اس لئے ہم بھی ایسا نہیں کرتے بلکہ یہ جوش پایا جاتا ہے کہ فلاں مومن میں فلاں نیکی پائی جاتی ہے، ہم وہ نیکی کس طرح حاصل کریں۔جب کسی جماعت کے اکثر افراد میں یہ جذبہ پایا جاتا ہے تو وہ اعلیٰ معیار کی جماعت کہلاتی ہے لیکن جس قوم میں اس قسم کے سوالات پیدا ہوں کہ فلاں نے غلطی کی