خطبات محمود (جلد 15) — Page 440
خطبات محمود ۴۴۰ سال ۱۹۳۴ء کی تحریکوں میں دس دس روپے دے کر اور اڑھائی اڑھائی ہزار کی تحریکوں میں پانچ پانچ روپے ادا ادا کر کے خواہ کسی ایک میں، خواہ دو میں، خواہ تین میں اور خواہ چاروں میں شامل ہو جائے۔چنانچہ میں دیکھتا ہوں کہ زیادہ تر اسی طبقہ جماعت نے توجہ کی ہے۔گو ابھی تحریک قادیان کی جماعت تک ہی پہنچی ہے اور باہر وہ خطبہ کل یا آج تک پہنچا ہو گا اور وہ بھی قریب کے شہروں اور دیہات میں ورنہ بہت سے علاقوں میں وہ خطبہ ایک ہفتہ بعد اور بعض جگہ دو تین ہفتہ کے بعد پہنچے گا اس لئے اس خطبہ کے پورے جواب کی دو ماہ سے کم اور ہندوستان سے باہر سے تین چار ماہ سے کم انتظار کی مدت نہیں ہو سکتی۔پس میں ابھی نہیں کہہ سکتا کہ جن کو خدا تعالیٰ نے توفیق دی ہے، وہ توفیق نہیں جو کمزور انسان قربانی سے بچنے کیلئے تجویز کرتا ہے، بلکہ وہ توفیق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک قربانی کیلئے کافی ہے وہ اس خطبہ کا کیا جواب دیں گے۔مگر میں سمجھتا ہوں جماعت احمدیہ کے غرباء کا طبقہ جو اصل میں مخاطب نہیں، اگر قادیان کی جماعت کے لحاظ سے اندازہ لگایا جائے تو وہ اس چندہ میں بھی دوسروں سے بڑھ جائے گا۔گو جنہوں نے دس دس یا پانچ پانچ روپے دینے کا وعدہ کیا ہے وہ سارے کے سارے ایسے نہیں ہیں جو قطعی طور پر دس یا پانچ دینے والوں میں شامل کئے جائیں ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جن کو دس یا پانچ سے زیادہ دینے کی توفیق ہے مگر کئی ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے جو کچھ دیا ہے انہیں اتنا دینے کی بھی توفیق نہ تھی۔اسی سلسلہ میں بعض عورتوں نے مجھ سے پوچھا ہے کہ ہم بھی اس تحریک میں حصہ لینا چاہتی ہیں مگر ہمیں اتنی توفیق نہیں کہ دس یا پانچ روپے یکمشت ادا کر سکیں۔ہمارے ملک میں رواج یہی ہے کہ عام طور پر عورتوں کو خرچ نقد نہیں دیا جاتا بلکہ کھانے پینے کی اشیاء اور پہننے کا کپڑا خرید کر دے دیا جاتا ہے سوائے شہری خاندانوں کے۔پس اس میں شبہ نہیں کہ اکثر عورتیں ایسی ہیں جو دس روپے یا پانچ روپے یکمشت نہیں دے سکتیں مگر انہوں نے خواہش کی ہے کہ انہیں بھی اس ثواب میں شامل ہونے کا موقع دیا جائے اور یہ اجازت دے دی جائے کہ وہ ایک ایک یا دو دو روپیہ ماہوار کر کے ادا کردیں۔عورتوں کا یہ جوش اور یہ اخلاص یقیناً قابل شکریہ بھی ہے اور قابل قدر بھی۔قابل شکریہ تو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کے اس طبقہ کو بھی جو کمزور اور ضعیف ہے، دین کیلئے قربانی کرنے کا شوق اور طاقت بخشی ہے اور قابل قدر اس لئے کہ خدا تعالی کیلئے کام کرنا ہر مومن کا ذاتی فرض ہوتا ہے اور جو بھی اس