خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 426

خطبات محمود سال " قربانی کے لئے آسانی سے تیار ہو سکیں اور اس کیلئے میں بعض باتیں پیش کرتا ہوں۔پہلی بات یہ ہے کہ کھانے میں سادگی پیدا کی جائے اس کیلئے ایک اصل ہمیں شریعت سے ملتا ہے۔رسول کریم ﷺ کا زمانہ خوف و خطرات کا زمانہ تھا اس وقت جو آپ نے مسلمانوں کو احکام دیئے تھے ، ہم ان سے سبق حاصل کر سکتے ہیں۔آپ کا اپنا طریق بھی یہ تھا اور ہدایت بھی آپ نے یہ کر رکھی تھی کہ ایک سے زیادہ سالن استعمال نہ کیا جائے اور اس پر اتنا زور دیتے تھے کہ بعض صحابہ نے اس میں غلو کر لیا۔چنانچہ ایک دفعہ حضرت عمر کے سامنے سر کہ اور نمک رکھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ دو کھانے کیوں رکھے گئے ہیں جبکہ رسول کریم ﷺ نے صرف ایک کھانے کا حکم دیا ہے۔آپ سے کہا گیا کہ یہ دو نہیں بلکہ دونوں مل کر ایک سالن ہوتا ہے مگر آپ نے کہا نہیں یہ دو ہیں۔اگرچہ آپ کا یہ فعل رسول کریم ﷺ کی محبت کے جذبہ کی وجہ سے غلو کا پہلو رکھتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔غالباً رسول کریم ﷺ کا یہ منشاء نہ تھا لیکن اس مثال سے یہ پتہ ضرور چلتا ہے کہ آپ نے یہ دیکھ کر کہ مسلمانوں کو سادگی کی ضرورت ہے، اس کی کس قدر تاکید کی تھی۔میں حضرت عمر والا مطالبہ تو نہیں کرتا اور یہ نہیں کہتا کہ نمک ایک سالن ہے اور سرکہ دوسرا۔مگر یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ آج سے تین سال کیلئے جس کے دوران میں ایک ایک سال کے بعد دوبارہ اعلان کرتا رہوں گا تاکہ اگر ان تین سالوں میں حالت خوف بدل جائے تو احکام بھی بدلے جاسکیں۔ہر احمدی جو اس جنگ میں ہمارے ساتھ شامل ہونا چاہے یہ اقرار کرے کہ وہ آج سے صرف ایک سالن استعمال کرے گا۔روٹی اور سالن یا چاول اور سالن یہ دو چیزیں نہیں بلکہ دونوں مل کر ایک ہوں گے۔لیکن روٹی کے ساتھ دو سالنوں یا چاولوں کے ساتھ دو سالنوں کی اجازت نہ ہوگی۔معمولی گزارہ والے گھروں میں بھی عورتیں تھوڑی تھوڑی مقدار میں ایک سے زیادہ چیزیں چسکا کے طور پر تیار کر لیتی ہیں اس عہد میں آنے والے لوگوں کیلئے اس کی بھی اجازت نہیں ہوگی سوائے اس صورت کے کہ کوئی دعوت ہو یا مہمان گھر پر آئے اس کے احترام کیلئے اگر ایک سے زائد کھانے تیار کئے جائیں تو یہ جائز ہو گا۔مگر مہمان کا قیام لمبا ہو تو اس صورت میں اہل خانہ خود ایک ہی کھانے پر کفایت کرنے کی کوشش کرے یا سوائے اس کے کہ اس شخص کی کہیں دعوت ہو اور صاحب خانہ ایک سے زیادہ کھانوں پر اصرار کرے۔یا سوائے اس کے کہ اس کے گھر کوئی چیز بطور تحفہ آجائے یا مثلاً ایک وقت کا کھانا تھوڑی مقدار میں بیچ کر دوسرے۔-