خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 415 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 415

خطبات محمود ۴۱۵ سال ۱۹۳۴ء چاہے تو بھی دوسروں کیلئے اس کو ایسا خرچ کرنا پڑتا ہے۔میں خود زمین پر بیٹھنے کا عادی ہوں اور زمین پر بیٹھ کر ہی کام کرتا ہوں سوائے اس کے کہ جلدی میں کوئی خط لکھنا ہو۔پیڈ میز پر پڑا ہو اور وہیں بیٹھ کر لکھ دوں۔وگرنہ عام طور پر میں زمین پر بیٹھتا ہوں مگر مجھے کاؤچ وغیرہ بھی رکھنے پڑتے ہیں کیونکہ میرے پاس انگریز بھی آجاتے ہیں اور ایسے ہندوستانی بھی جو کوٹ پتلون پہنتے ہیں تو یہ بھی ایک خرچ ہے جو پہلے نہیں تھا اور اس پر بھی کافی رقم صرف ہو جاتی آٹھواں خرچ تعلیم کا ہے۔تعلیم بہت گراں ہو گئی ہے۔پہلے زمانہ میں مدارس کچھ نہیں لیتے تھے وہ مفت پڑھاتے تھے اور آسودہ حال لوگ ان کی خدمت کر دیتے تھے۔کتابیں بھی مدرسہ کی ہوتی تھیں جو طالب علم تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد دوسروں کیلئے وہیں چھوڑ آتے تھے۔طالب علموں کے کھانے پینے کا خرچ عام طور پر شہر والے برداشت کر لیتے تھے اور بہت ہی کم ایسے طالب علم ہوتے تھے جنہیں اپنا انتظام کرنا پڑتا۔رہائش کیلئے مساجد کے ساتھ کو ٹھڑیاں وغیرہ بنی ہوتی تھیں۔مگر آج کل تعلیم بہت گراں ہے، کالج میں لڑکا جاتا ہے تو چالیس سے لے کر ڈیڑھ سو تک ماہوار اس پر خرچ کرنا پڑتا ہے، بعض کالجوں کے خرچ زیادہ ہوتے ہیں، پھر بعض زیادہ تعلیموں پر زیادہ خرچ آتا ہے۔مثلاً میڈیکل اور سائنس کی تعلیم پر بہت خرچ ہوتا ہے۔بعض کالجوں کی فیسیں زیادہ ہوتی ہیں اور اس طرح چالیس سے لے کر ڈیڑھ سو تک خرچ ہوتا ہے۔یہ ہندوستان کے عام کالجوں کے حالات ہیں۔بعض کالجوں کے اور بھی زیادہ خرچ ہوتے ہیں اور یورپ میں تو تین سو سے لے کر پانچ سو روپیہ تک ماہوار خرچ ہوتا ہے لیکن نوکریوں کا یہ حال ہے کہ آخری عمر میں پہنچ کر شاید پانچ سو روپے تنخواہ مل سکے۔تو تعلیم بھی آج کل بہت گراں ہے۔ان اخراجات کی موجودگی میں اگر ہم یہ کہیں کہ ہمارا سب سلسلہ کیلئے قربان ہے تو اس کا کیا نتیجہ ہو سکتا ہے۔جو شخص عملا کچھ فائدہ نہ پہنچا سکے اس کا زبانی دعوی کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔میں نے جب بھی وقف کی تحریک کی ہے تو میں نے دیکھا ہے چند آدمی ضرور اپنے نام پیش کر دیتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔پس ایسی قربانی کا دعویٰ کرنا جسے کرنے والا نہ خود کر سکے اور نہ میں اس سے کوئی فائدہ اٹھا سکوں وہی بات ہے کہ سو گز واروں، ایک گز نہ پھاڑوں" پس اگر جماعت قربانی کرنا چاہتی ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے ماحول تیار کرے اور یہ بچوں اور