خطبات محمود (جلد 15) — Page 414
خطبات محمود ۴۱۴ سال ۱۹۳۴ء ہمارے ملک میں اوسط تین پیسے فی کس روزانہ آمد ہے۔یعنی ڈیڑھ روپیہ فی کس ماہوار - جس میں سے تمام اخراجات پورے کرنے ہوتے ہیں۔مگر انگلستان میں اڑھائی روپیہ فی کس ہر مہینہ میں تماشوں پر خرچ ہوتا ہے۔اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کتنا بڑا خرچ ہے اور یہ آمدنی پر بہت بڑا بوجھ ہے۔چھٹا خرچ شادی بیاہ کا ہے۔اس میں بھی بڑا خرچ ہوتا ہے۔یہاں قادیان میں میں نے دیکھا ہے کہ ولیمہ کا مرض بہت ترقی کرتا جاتا ہے۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں بھی ولیمہ کی دعوتیں ہوتی تھیں مگر بہت محدود رسول کریم ال کے زمانہ میں بڑے سے بڑا ولیمہ بھی اتنا نہیں ہوا ہوگا جتنے ہمارے ہاں چھوٹے ہوتے ہیں۔اور وہ اس میں شاید میری نقل کرتے ہیں حالانکہ میرے تعلقات ساری جماعت کے ساتھ باپ بیٹے کے سے ہیں اور ایسے پر ہر خاندان کے ساتھ مجھے محبت کا تعلق ظاہر کرنا پڑتا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ اس قدر کثرت کے ساتھ لوگوں کو بلا لینے کے باوجود بھی مجھ پر شکوہ ہوتا ہے کہ ہمیں نہیں بلایا گیا۔اور اب تو مجھے بھی یہ تعداد تھوڑی کرنی پڑے گی۔پس اگر کمپنیوں اور ڈوموں کا مرض گیا ہے تو اس کی جگہ ولیموں نے لے لی ہے حالانکہ ولیمہ پر دس پندرہ دوستوں کو بلالینا کافی ہوتا ہے۔یا جیسا کہ سنت ہے ایک بکرا ذبح کیا شوربا پکایا اور خاندان کے لوگوں میں بانٹ دیا۔پھر میں نے دیکھا ہے کہ اب تک یہ مرض بھی چلا جارہا ہے کہ لڑکی والے یہ پوچھتے ہیں، زیور کیا دوگے اور ایسا کہتے ہوئے انہیں شرم نہیں آتی۔کوئی شخص اپنی طرف سے جس قدر چاہے لیکن لڑکی والوں کی طرف سے ایسی بات کا کہا جاتا لڑکی کو فروخت کرنے کے مترادف ہے۔پھر مہر بھی حد سے زیادہ مقرر کئے جاتے ہیں۔ہمارے گھروں میں عام طور پر ایک ہزار روپیہ مہر ہوتا ہے بعض زیادہ بھی ہیں۔زیادہ ان حالتوں میں ہیں جن میں عورتوں کو شرعی نہیں مل سکتا وہاں مہر اتنا ہے کہ وہ کمی پوری ہو جائے مگر یہاں میں نے دیکھا ہے کہ معمولی معمولی آدمی دس دس اور پانچ پانچ ہزار مہر مقرر کرتے ہیں حالانکہ ان کی جائدادیں اور آمدنیاں بہت ہی کم ہوتی ہیں۔باہر سے ایک دوست نے مجھے خط لکھا کہ قادیان کے ایک آدمی نے مجھے کہا ہے کہ آپ کے گھروں میں دس پندرہ ہزار مہر مقرر کیا جاتا ہے حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔بهر حال مہر حیثیت کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ساتواں خرچ آرائش و زیبائش مکانات پر ہوتا ہے۔اگر کوئی شخص خود سادہ ہی رہنا دے۔حصہ