خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 410

خطبات محمود اس ۱۰ سیال ۱۹۳۴ء لئے محروم رہ جاتے ہیں کہ وہ ماحول پیدا نہیں کرسکتے۔وہ صرف یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے جب کہا کہ قربانی کریں گے تو کرلیں گے حالانکہ یہ صحیح نہیں۔ماحول کی ایک مثال میں پیش کرتا ہوں۔ایک شخص کی آمدنی دس روپے ہے وہ پانچ روپے میں گزارہ کرتا ہے اور پانچ روپے کی قربانی کر سکتا ہے لیکن اگر وہ شادی کرے تو دس روپے ہی صرف ہو جائیں گے۔اس صورت میں ممکن ہے وہ ایک آدھ روپیہ تو بچا سکے مگر یہ نہیں کہ پانچ کی ہی قربانی کر سکے۔پس قربانی حالات کے مطابق ہوتی ہے۔جب قربانی کیلئے چیز ہی پاس نہ ہو تو قربانی کہاں سے دے گا۔اسلام نے یہ جائز نہیں رکھا کہ انسان شادی نہ کرے یا اولاد پیدا نہ کرے یہ میں نے مثال دی ہے کہ انسان کی جتنی ذمہ داریاں زیادہ ہوں گی ، اتنی ہی مالی قربانی وہ کم کر سکے گا۔پس آپ لوگ کتنے بھی ارادے قربانی کے کریں جب تک ماحول میں تغیر نہ ہو، انہیں پورا نہیں کرسکتے۔مجھے ہزار ہا لوگوں نے لکھا ہے کہ ہم قربانی کیلئے تیار ہیں اور جنہوں نے نہیں لکھا وہ بھی اس انتظار میں ہیں کہ سکیم شائع ہولے تو ہم بھی شامل ہو جائیں گے۔مگر میں بتاتا ہوں کہ کوئی قربانی کام نہیں دے سکتی جب تک اس کیلئے ماحول پیدا نہ کیا جائے۔یہ کہنا آسان ہے کہ ہمارا مال سلسلہ کا ہے مگر جب ہر شخص کو کچھ روپیہ کھانے پر اور کچھ لباس پر اور کچھ مکان کی حفاظت یا کرایہ پر کچھ علاج پر خرچ کرنا پڑتا ہے اور پھر اس کے پاس کچھ نہیں بچتا تو اس صورت میں اس کا یہ کہنا کیا معنی رکھتا ہے کہ میرا سب مال حاضر ہے۔اس قسم کی قربانی نہ قربانی پیش کرنے والے کو کوئی نفع دے سکتی ہے اور نہ سلسلہ کو ہی اس سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔سلسلہ اس کے ان الفاظ کو کہ میرا سب مال حاضر ہے کیا کر۔جبکہ سارے مال کے معنی صفر کے ہیں۔جس شخص کی آمد سو روپیہ اور خرچ بھی سو روپیہ ہے، وہ اس قربانی سے سلسلہ کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتا۔جب تک کہ پہلے خرچ کو سو سے نوے پر نہیں لے آتا تب بیشک اس کی قربانی کے معنی دس فیصدی قربانی کے ہوں گے۔اس قسم کے دعوے کر دینا صرف یہ ثابت کرتا ہے کہ کہنے والا بے سوچے سمجھے بات کرنے کا عادی ہے۔وہ پیش تو سب مال کرتا ہے لیکن یہ غور نہیں کرتا کہ اس کے پاس تو مال ہے ہی نہیں۔ایک شخص کی اگر ایک پیسہ کی بھی جائداد نہ ہو اور وہ یہ کہے کہ میری ساری جائداد حاضر ہے تو اس سے اسلام کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔بعض لوگ غلطی سے ایسی بات پیش تو کر دیتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ وہ کس حد تک قربانی کر سکتے ہیں۔پس دیکھنے والی بات یہی ہے کہ قربانی کیلئے