خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 409

سال ۱۹۳۴ء خطبات محمود ۴۰۹ تبلیغ یہی وجہ ہے کہ میں نے سکیم کو لازمی قرار نہیں دیا کیونکہ اس کے بعض حصے ایسے ہیں کہ جن کو تفصیلاً بیان نہیں کیا جائے گا اور میں مخلصین سے مطالبہ کروں گا کہ اس اخفاء کے باوجود جو اپنے آپ کو قربانی کیلئے پیش کر سکتا ہے کرے اور جو نہیں کرنا چاہتا نہ کرے اور اس طرح میں کسی کیلئے ادنی اعتراض کی بھی گنجائش نہیں رہنے دینا چاہتا۔چاہے ایک شخص بھی اس میں شامل نہ ہو، میں اللہ تعالیٰ کے سامنے صرف اپنی ذات کا ذمہ دار ہوں۔میرا کام " کرنا تربیت کرنا، فرائض کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنا اور ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کے احکام کو رکھ دینا ہے۔مجھ پر ذمہ داری صرف میری جان کی ہے میں اس کا ذمہ دار ضرور ہوں کہ اللہ تعالی کی آواز کو پہنچا دوں۔اس صورت میں اگر اللہ تعالیٰ مجھ سے سوال کرے تو میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اپنا فرض ادا کر دیا۔پس دوسروں کے کام کی ذمہ داری مجھ پر نہیں۔اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ سکیم کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔میرا کام صرف یہ ہے کہ جب دیکھوں کہ اسلام یا سلسلہ کی تبلیغ میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے یا وقار کو نقصان پہنچ رہا ہے تو اس کے ازالہ کیلئے قدم اٹھاؤں، قطع نظر اس سے کہ کوئی میرے ساتھ شامل ہوتا ہے یا نہیں۔تیسری بات جو تمہیدی طور پر میں کہنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ کوئی بڑی قربانی نہیں کی جاسکتی جب تک اس کیلئے ماحول نہ پیدا کیا جائے۔اچھا پیج ایسی جگہ جہاں وہ آگ نہیں سکتا یا ایسے موسم میں جب وہ پیدا نہیں ہوتا کوئی فائدہ نہیں دے سکتا اور اسے اُگانے کی کوشش کا نتیجہ یہ ہوگا کہ محنت ضائع جائے گی کیونکہ اس زمین میں یا اس موسم یا ان حالات میں وہ آگ ہی نہیں سکتا۔پس کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ ماحول ٹھیک ہو اور گرد و پیش کے حالات موافق ہوں اگر گرد و پیش کے حالات موافق نہ ہوں تو کامیابی نہیں ہو سکتی۔اس نکتہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بہت سے لوگ نیکی سے محروم رہ جاتے ہیں ان کے اندر نیکی کرنے کا مادہ بھی موجود ہوتا ہے اور جذبہ بھی مگر وہ ایسا ماحول نہیں پیدا کر سکتے جس کے ماتحت صحیح قربانی کر سکیں۔پس ماحول کا خاص طور پر خیال رکھنا ضروری ہے۔میرے ایک بچہ نے ایک دفعہ ایک جائز امر کی خواہش کی تو میں نے اسے لکھا کہ یہ بے شک جائز ہے مگر تم یہ سمجھ لو کہ تم نے خدمت دین کیلئے زندگی وقف کی ہوئی ہے اور تم نے دین کی خدمت کا کام کرنا ہے اور یہ امر تمہارے لئے اتنا بوجھ ہو جائے گا کہ تم دین کی خدمت کے رستہ میں اسے نباہ نہیں سکو گے اور تمہارے رستہ میں مشکل پیدا کردے گا۔تو میں نے دیکھا ہے کہ بہت سے لوگ نیکیوں سے