خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 380

خطبات محمود ٣٨٠ سال ۱۹۳۴ء نے محمد ( ا ) کو مکہ میں پیدا کیا مگر مدینہ والوں کی قربانیاں خدا تعالی کو کچھ ایسی پسند آئیں کہ وہ اپنے خَاتَمَ النَّبِيِّن کو مکہ سے اٹھا کر مدینہ میں لے آیا پھر مدینہ والوں کی قربانیوں کو خدا تعالیٰ نے نوازا اور انہیں توفیق دی کہ وہ اس کے وعدوں کے پورا کرنے والوں میں شامل ہوئے اور جب خداتعالی نے خاص اپنی طاقتوں اور بے انتہا قدرتوں کے نتیجہ میں ملک عرب کو اس کے رسول کے تابع کردیا اور مکہ جس میں سے اسے نکالا گیا تھا فتح ہو گیا تو مکہ والے تو اونٹ اور بھیڑیں ہانک کر لے گئے مگر مدینہ کے لوگ خدا کے رسول کو اپنے گھر لے آئے۔انصار نے پھر روتے ہوئے کہا یا رسُول اللہ ! جو کچھ ہوا وہ ہمارے ایک بیوقوف نوجوان کا قول تھا ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔آپ نے فرمایا جو کچھ ہونا تھا ہو چکا۔اس ایک نادان کے قول کی وجہ سے اب تم دنیا کی بادشاہت سے ہمیشہ کیلئے محروم رہو گئے ، تم نے جو کچھ لینا ہے، وہ مجھ سے حوض کوثر پر آکر لینا ہے۔تیرہ سو برس گزر گئے اس واقعہ کے بعد عرب حاکم ہوئے مصری حاکم ہوئے ، سپینش نسل کے لوگ حاکم ہوئے، مورش حاکم ہوئے، پٹھان حاکم ہوئے مغل حاکم ہوئے مگر رسول کریم ﷺ کے گرد جانیں قربان کرنے والے انصار کسی چھوٹی سی ریاست کے مالک بھی نہ بن سکے۔کتنی بڑی اہمیت ہے جو ایک نادان کے قول کو دی گئی اور یہ اہمیت اسی لئے دی گئی کہ بات برداشت کرلی جاتی تو یہ امر مشتبہ ہو جاتا کہ نبی کے زمانہ میں جب کوئی قوم قربانی کرتی ہے تو وہ احسان نہیں کرتی بلکہ در حقیقت اس پر خدا تعالیٰ کا احسان ہوتا ہے کہ اسے خدمت دین کی توفیق دی گئی۔پس اگر یہ تعلیم بھی کر لیا جائے کہ یہ ایک شخص کا فعل ہے یا اپنی ذات میں منفردانہ واقعہ تب بھی یہ معاملہ اپنی ذات میں کچھ کم اہمیت نہیں رکھتا بلکہ اس قابل رہتا ہے کہ اس کی طرف زیادہ توجہ کی جائے مگر جیسا کہ میں ثابت کرچکا ہوں کہ یہ ایک شخص کا فعل نہیں بلکہ ایک سے زیادہ افسر اس میں شریک ہیں۔دوسرے یہ اکیلا واقعہ نہیں بلکہ واقعات کا ایک لمبا سلسلہ ہے جس کی یہ ایک کڑی ہے۔اسی طرح جو دوسرا اعتراض ہے اس کے بارہ میں میں تسلیم کرلیتا ہوں کہ مسٹرہارڈنگ نے یہ کہا ہو کہ میں جماعت احمدیہ کی وفادارانہ خدمات کی کوئی قیمت نہیں سمجھتا۔گو ممکن ہے اس دوست کو بات کے سمجھنے میں کوئی غلط فہمی ہوئی ہو لیکن یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ مسٹرہارڈنگ نے یہ کہا ہم نہیں کہہ سکتے کہ ساری انگریز قوم انہی خیالات کی مؤید ہے کیونکہ وہ صرف ایک کی غلطی ہے اور ان الفاظ کے اگر۔