خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 356

خطبات محمود ۳۵۶ سال ۱۹۹۳۴ء کا احتمال نہ ہوتا تو میں یقیناً ان معاملات کو دبا دیتا لیکن سلسلہ کی عزت کی حفاظت کیلئے میں اپنی بے آرامی کی پرواہ نہیں کرتا اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر آج ان امور کا انسداد نہ کیا گیا تو سلسلہ کی تحقیر اور تذلیل بڑھتی چلی جائے گی۔پس میرا فرض ہے کہ میں آج آپ لوگوں کو کھول کر بتادوں کہ اب آپ کے امتحان کا وقت آپہنچا ہے، اب آپ کی قربانیوں کا جائزہ لینے کا وقت آگیا ہے، آخر جو گالیاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو روزانہ دی جاتی ہیں کیا وہ گورنمنٹ کو معلوم نہیں۔پھر کیوں گورنمنٹ ہماری زبان بندی کرتی ہے اور ہمارے دشمن کو کھلے چھوڑ رہی ہے۔ہمارے دشمن کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے علماء کو اور حضرت مسیح کو گالیاں دی ہیں اور وہ اس کا بدلہ لے رہے ہیں اور میں نے سنا ہے کہ حکومت بھی اس وہم میں مبتلاء ہے کہ احمدیوں نے ابتداء کی ہے لیکن یہ جھوٹ اور صریح جھوٹ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب میں بیشک بعض لفظ موجود ہیں جنہیں سخت کہا جاتا ہے لیکن وہ جو ابا لکھے گئے ہیں۔پہلے عیسائیوں، آریوں نے آنحضرت ﷺ کے خلاف نہایت سخت اور دلوں کا خون کردینے والے کلمات استعمال کئے تب بار بار سمجھانے کے بعد جب وہ باز نہ آئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تنبیها چند الفاظ استعمال کئے تا انہیں ہوش آئے۔اسی طرح علماء نے جب حد سے زیادہ ناپاک گالیاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیں اور باوجود شرافت کی طرف بلائے جانے کے ادھر نہ آئے تو آپ نے ان کی اصل تصویر نہایت نرم الفاظ میں ان کے سامنے رکھی۔اب اگر بغیر حقیقت پر غور کرنے کے گورنمنٹ نے ان تحریروں کو موجودہ شورش کا موجب قرار دیا تو ہمیں بھی وہ تحریریں شائع کرنی پڑیں گی جو ان کا موجب ہوئیں اور اس کا جو نتیجہ نکلے گا اس کی ذمہ دار حکومت ہوگی نہ کہ ہم۔پس ہم حکومت کو بتادینا چاہتے ہیں کہ اگر حکومت نے ان گالیوں کا سدباب نہ کیا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دی جاتی ہیں تو ہم قانون کے اندر رہتے ہوئے ایسی تدابیر اختیار کریں گے جو ہمیں اس شر سے محفوظ کر دیں لیکن وہ تدابیر یقینا حکومت کی مشکلات میں اضافہ کردیں گی۔ہمیں جو محبت حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہے حکومت اس کا اندازہ نہیں کر سکتی ، نہ وہ ان خدمات کی قدر کر سکتی ہے جو آپ نے قیامِ دین کیلئے کیں کیونکہ اس کا جن لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے وہ بے نفسی کے معنی نہیں جانتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ہر مذہب کے لوگوں کو صرف اپنے۔