خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 325 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 325

خطبات محمود ۳۲۵ سال ۲۱۹۳۴ واقعہ ہوا ہوتا تو بھی میں کہہ سکتا تھا کہ ایں ہم اندر عاشقی بالائے مہائے دگر ہے جو ہم نے اپنے سلسلہ کی حفاظت اور خدا تعالیٰ کی رضا کیلئے بدترین گالیاں سنی ہیں اگر ان گالیوں میں ایک اس گالی کا بھی اضافہ ہو گیا تو کیا مگر چونکہ اس کے آئندہ خطرات بہت سخت ہو سکتے تھے، اس لئے مجھے ضرورت پیش آئی کہ یہ معالمہ میں اٹھاؤں۔دوسرے یہ ایک لمبی زنجیر کی آخری کڑی ہے جن واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ گورنمنٹ کے بعض افسر ہمارے متعلق اس کے پاس جھوٹی رپورٹیں کرتے اور خلاف واقعہ باتیں پہنچا کر اسے ہمارے خلاف اکساتے رہتے ہیں۔پس یہ اکیلا واقعہ نہیں بلکہ گورنمنٹ کی طرف سے سختی کا ایک لمبا سلسلہ ہمارے متعلق ایک عرصہ سے جاری ہے۔اس زنجیر میں سے بعض واقعات ہز ایکسی لینسی گورنر کی اپنی ذات سے تعلق رکھتے ہیں اور چونکہ میں انہیں ملک معظم کا نمائندہ سمجھتا ہوں اس لئے میرے دل میں ملک معظم کا جو ادب ہے اس کی وجہ سے میں ان کا نام درمیان میں لانا نہیں چاہتا اور اسی لئے حکام نے جو باتیں ان کی طرف منسوب کر کے بیان کی ہیں، چونکہ ان کی تحقیق کا کوئی ذریعہ میرے پاس نہیں میں نے انہیں تسلیم نہیں کیا۔اور اب بھی اگرچہ بعد کے واقعات نے شبہات کا ایک لمبا سلسلہ پیدا کر دیا ہے، میں انہیں صحیح قرار نہیں دے سکتا اور چونکہ میں ان سے نہ براہِ راست پوچھ سکتا ہوں اور نہ ہی وہ مجبور ہیں کہ ایسے سوالات کا جواب دیں۔پھر یہ امر بھی مد نظر ہے کہ ہم نے ان کا ادب کرتا ہے اس لئے میں ان کے نام کو درمیان میں نہیں لاسکتا اور اگر میں ان کا نام درمیان میں لاؤں تو یہ میری مذہبی تعلیم کے خلاف ہوگا اس لئے جب تک کوئی اخلاقی یا شرعی ضرورت مجھے مجبور نہ کرے، میں وہ واقعات نظر انداز کرتے ہوئے صرف وہ باتیں بیان کرنا چاہتا ہوں جو گورنمنٹ کے نام پر کی گئی ہیں اور جن میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر حکام نے ہمارے قیمتی وقت کو ضائع کیا۔قادیان کے لوگ بھی شاید پوری طرح نہ جانتے ہوں اور باہر کے لوگ تو بالکل ہی نہیں جانتے لیکن حقیقت یہ ہے کہ قادیان کی زندگی موجودہ زمانہ میں امن کی زندگی نہیں کہلا سکتی کیونکہ جماعت کے کارکنوں کا کافی وقت پولیس مینوں اور مجسٹریٹوں سے جھگڑنے میں خرچ ہو جاتا ہے اور آج میں جماعت کو آگاہ کرتا ہوں کہ اگر یہی حالت بدستور قائم رہی تو آئندہ کوئی کام جماعت کا نہیں ہو سکے گا۔ہمارے کارکنوں کی یہ ہمت اور بہادری تھی بلکہ بہت بڑی قربانی تھی کہ ان تمام جھگڑوں کے +