خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 323 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 323

خطبات محمود ٣٢٣ سال ۱۹۳۴ء باتوں کے باوجود ہم انتہائی اقدام اس صورت میں کریں گے اگر ہماری صلح اور امن پسندی کی ئیں رائیگاں چلی گئیں۔ورنہ جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے ہم تو یہاں تک تیار ہیں کہ ایک انگریز جج مقرر کیا جائے اور اگر وہ فیصلہ کر دے کہ ہم غلطی پر ہیں تو گو دلوں میں ہم اس کو صحیح نہیں مانیں گے مگر اسی وقت ہم اپنے ہتھیار ڈال دیں گے اور سمجھ لیں گے کہ جج نے جو فیصلہ کرنا تھا کر دیا۔یہی قانون ہے جو دنیا میں رائج ہے۔حج صحیح فیصلے بھی کرتے ہیں اور غلط بھی۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں بالکل ممکن ہے کہ میں ایک شخص کو کوئی چیز دلوادوں حالانکہ وہ اس کا حق دار نہ ہو ہے۔جب رسول کریم اے اپنے فیصلہ میں غلطی سکتے ہیں تو ایک مومن کیوں غلطی نہیں کر سکتا۔اور پھر ایک غیر مؤمن غلطی سے کیونکر مبترا سکتا ہے لیکن بہر حال فیصلہ کے لحاظ سے ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ جو کچھ وہ کہے اسے مانیں خواہ ہمارے دل اس کو قبول کریں یا نہ کریں۔اُس وقت ہم تسلیم کرلیں گے کہ گورنمنٹ نے جو لکھا وہ غلط فہمی کے ماتحت لکھا اور وہیں بات ختم ہو جائے گی۔لیکن اگر گورنمنٹ ہماری کوئی بات بھی تسلیم نہ کرے اور ہمارے دوست ہمیں یہی نصیحت کرتے رہیں کہ تم خاموشی سے بسر کرتے چلے جاؤ تو ہمارا حق ہوگا ان سے بات پوچھنے کا کہ وہ ہمیں کوئی تجویز بتادیں جس سے ہم جماعت کی ہتک کا ازالہ کر سکیں۔ہو اب میں بعض وہ واقعات بیان کرتا ہوں جن سے ہمیں شبہ پیدا ہوتا ہے کہ گورنمنٹ پنجاب کے افسران میں سے کوئی افسر ایسا ہے جو ہمارے سلسلہ کو بلا وجہ نقصان پہنچانا چاہتا اور اسے دنیا میں بدنام کرنا چاہتا ہے۔میں نے پچھلے جمعہ میں بتایا تھا کہ اگر یہی ایک واقعہ ہوا ہوتا تو مجھے اتنا بُرا نہ لگتا جتنا کہ اب لگا۔اور یہ بھی میں نے بتایا تھا کہ گورنمنٹ کو دوست سمجھتے ہوئے ہمارے لئے یہ اچھے کی بات تھی کہ ہمیں باغی قرار دیا گیا لوگ اگر اس کو نہ سمجھ سکیں تو وہ معذور ہیں کیونکہ ان کے دلوں میں گورنمنٹ کی وفاداری کا وہ جذبہ نہیں جو ہمارے دلوں میں ہے۔جب میں بچہ تھا اور ابھی میں نے ہوش ہی سنبھالا تھا اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان سے گورنمنٹ کی وفاداری کا میں نے حکم سنا اور اس حکم پر اس قدر پابندی سے قائم رہا کہ میں نے اپنے گہرے دوستوں سے بھی اس بارے میں اختلاف کیا حتی کہ اپنے جماعت کے لیڈروں اختلاف کیا۔چنانچہ کانپور کی مسجد کے واقعہ کے متعلق الفضل اور پیغام صلح میں جو جنگ