خطبات محمود (جلد 15) — Page 253
خطبات محمود ۲۵۳ سال ۱۹۳۴ء اذان ایک گرج ہے، ایک چیلنج ہے دنیا کو کہ ہمت ہے تو ہمارے مقابلہ میں آؤ مگر کیا کوئی چیلنج بھی مُردہ آواز میں دیا کرتا ہے۔یہ تو ایک گرج ہے کہ تم رکن خداؤں کو پیش کرتے ہو ہمارا خدا سب سے بڑا ہے لیکن ان الفاظ کو ادا کرتے ہوئے اگر آواز ایسی ہو جیسے مار کھا کر تو یہ مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔اذان اونچی اور صحیح ہونی چاہیے اس کے اندر ایسی رور ہے ہو کشش ہے کہ حضرت خلیفہ اول سنایا کرتے تھے کہ ایک سکھ رئیس کے گھر کے پاس مسجد تھی جس میں ایک بہت بلند آواز اور خوش گلو مؤذن تھا۔اس سکھ کی جوان لڑکی تھی وہ ایک دن اپنے والد سے کہنے لگی کہ میں مسلمان ہونا چاہتی ہوں۔اس نے پوچھا کیوں؟ کہنے لگی بس میرا دل چاہتا ہے۔اس نے پوچھا آخر اس کی کوئی وجہ بھی ہے۔کہنے لگی یہ میں نہیں جانتی۔بس میرا دل اسلام کی طرف کھنچا چلا جاتا ہے۔وہ سمجھدار آدمی تھا اور امیر بھی۔اس نے اس مؤذن کو کچھ دے دلا کر وہاں سے بھجوا دیا اور کسی منحنی آواز والے کو مؤذن مقرر کروا دیا اور پھر چند روز کے بعد کہا کہ اچھا بیٹی ! تیری مرضی ہے تو مسلمان ہو جا۔وہ کہنے لگی اب تو خیال بدل گیا ہے۔تو اذان میں ایک شوکت اور شان ہے اگر آواز بھی الفاظ کے مطابق ہو تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دل خود بخود کو تا چلا جارہا ہے لیکن جہاں موذن بھری آواز والا ہو وہاں نمازی بھی ست ہوتے ہیں۔پس میں تمام محلوں کے پریڈیڈ نٹوں اور مربیان اطفال کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس طرف توجہ کریں۔خطبہ میں میں نے کہا تھا کہ محلہ والوں کا فرض ہے کہ دیکھیں ان کا کوئی ہمسایہ بھوکا نہ رہے اور ننگا نہ ہو مگر اس ذمہ داری کے ساتھ ایک اور امر بھی ہے جس کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے۔بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جو یہ دیکھ کر کہ کھانے اور کپڑوں کی ذمہ داری دوسروں پر ہے سُست ہو جاتے ہیں۔ایسے لوگ محنت اُس وقت کرتے ہیں جب دیکھیں کہ ذمہ داری ہم پر ہے اس لئے جب یہ اہتمام کیا جائے کہ سب کے کھانے پینے کی ذمہ داری محلہ والوں پر ہو وہاں ان کا یہ بھی فرض ہوگا کہ دیکھیں ایسے لوگ سُست نہ ہوں۔بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ کام نہیں ملتا اور اس کی تشریح کرائی جائے تو معلوم ہوگا کہ ان حسب ملف منشاء کام نہیں ملتا حالانکہ سائل ہونے سے بہتر ہے کہ جو کام بھی ملے کر لیا جائے۔مثلاً ایک وکیل کو اگر وکالت کا کام نہ ملے اور وہ ٹوکری ڈھونے لگ جائے تو یہ اس کی شرافت کی دلیل ہوگی اور اس میں کوئی ذلت نہیں۔لکھنے بیٹھنے کی بجائے اگر وہ حلال روزی ٹوکری کے