خطبات محمود (جلد 15) — Page 251
خطبات محمود ۲۵۱ ١٩٣١ء طاقت اور شوکت اور اثر پیدا فرما۔چنانچہ فرعون کے ساتھ آپ کے جو مباحثات ہوئے ان سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ آپ چھوٹے چھوٹے اور مختصر جواب دیتے مگر درباریوں پر ایسی ہیبت طاری ہو گئی کہ اُن سے کوئی جواب بن نہ پڑا اور آخر وہ مارنے اور ظلم کرنے پر اُتر آئے۔رسول کریم او کو بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ہزا رہا کے مجمع کو آپ ایسی عمدگی کے ساتھ اپنی باتیں سنا دیتے تھے کہ دور بیٹھے ہوئے لوگوں کو بھی آواز پہنچتی تھی۔آپ مسجد میں تقریر فرماتے تو گلی کوچوں میں آپ کی آواز پہنچتی۔آپ فرماتے بیٹھ جاؤ تو گلی میں چلنے والوں میں سے بعض آپ کی آواز سن کر بیٹھ جاتے ہے۔غرض وہ نشان والا معجزہ جو سب انبیاء کو دیا گیا اور جس سے کوئی نبی مستثنی نہیں ، نہ حضرت موسی نہ حضرت عیسی ، نہ رسول کریم ال ال TAG اور نہ اس زمانہ کا مامور، وہ کوئی معمولی بات نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام لاہور میں جب تقریر کرنے کیلئے کھڑے ہوئے تو لاہور کا سب سے وسیع ہال آدمیوں سے بھرا ہوا تھا۔اور اس قدر اژدہام تھا کہ دروازے کھول دیئے گئے بلکہ باہر قناتیں لگائی گئیں اور وہ بھی سامعین سے بھر گئیں۔شروع میں تو جیسا کہ عام قاعدہ ہے آپ کی آواز ذرا مدھم تھی اور بعض لوگوں نے کچھ شور بھی کیا مگر بعد میں جب آپ بول رہے تھے تو ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے آسمان سے کوئی بگل بجایا جارہا ہے اور لوگ مبہوت بنے بیٹھے تھے۔تو آواز کی بلندی دینی خدمات کے اہم حالات میں سے ہے۔پھر معلوم نہیں ہمارے دوست اس طرف کیوں توجہ نہیں کرتے۔یہ خیال کہ آواز بڑھ نہیں سکتی غلط ہے۔جو لوگ گانے کی مشق کرتے ہیں ان کی آواز بلند ہو جاتی ہے۔گویوں کے ماسٹر ان کی آواز کو بلند کرنے اور گلوں کی حفاظت کرنے کے متعلق خاص احتیاطیں کرتے ہیں۔کبھی گرم کپڑے باندھتے ہیں اور کبھی ٹھنڈے اور پھر ایک آدمی چھڑی لے کر کھڑا ہو جاتا ہے اور اگر آواز مدھم نکلے تو وہ سزا دیتا ہے۔پھر جب گلا بیٹھ جاتا ہے تو اس پر برف وغیرہ باندھتے ہیں اور اس طرح آواز کو بلند کیا جاتا ہے۔ہمارے ہاں بھی اس کی مثال موجود ہے۔عبد الغفار خان صاحب افغان جو میاں عبداللہ خان صاحب افغان کے والد تھے اور مولوی عبدالستار صاحب مرحوم کے بھائی تھے وہ بڑے قد آور جوان تھے مگر اذان کیلئے ایک دن کھڑے ہوئے تو ان کی آواز نہ نکلی۔اس پر بعض لوگوں نے تمسخر کیا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے باقاعدہ اذان دینا شروع کردی اور آہستہ آہستہ