خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 15

خطبات محمود ۱۵ سال ۱۹۳۴ء سحری سے پہلے کا وقت بھی دعائیں قبول ہونے کا ہوتا ہے ہے۔سحری سے سورج نکلنے تک کا وقت بھی قبولیت دعا کیلئے احادیث میں بیان کیا گیا ہے۔غرض عصر سے مغرب تک جس میں افطاری کا وقت بھی شامل ہے اور پو پھٹنے سے سورج کے نکلنے تک کا وقت خاص طور پر دعاؤں کے لئے موزوں ہوتا ہے۔ان وقتوں میں اگر دعا کی جائے تو خصوصیت سے قبول ہوتی ہے۔رپر قرآن مجید سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ تہجد کے وقت خاص طور پر ملائکہ نازل ہوتے اور الہی برکات و فیوض کا نزول ہوتا ہے۔اور روزوں کا قرآن کریم میں جہاں ذکر کیا گیا ہے، وہاں دعاؤں کی قبولیت کا وعدہ بھی دیا گیا ہے۔غرض ان دنوں سے خصوصیت سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔جماعت کے دوستوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہماری تمام فتوحات روحانی ہیں۔میں حیران ہوتا ہوں جب میں بعض دفعہ اپنے دوستوں میں سے کسی کے منہ سے یہ سنتا ہوں کہ ہم اپنی تدبیروں سے یوں کر دیں گے۔اس میں شبہ نہیں کہ ہمیں اپنی تدبیروں سے بھی کام لینا چاہیئے لیکن اگر ہم خدا تعالٰی کی نصرت کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی تدبیروں پر کامیابی کا انحصار رکھیں گے تو ہم یقیناً ناکام رہیں گے۔ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہماری ہر ایک تدبیر خدا تعالی کی مرضی اور اس کی رضاء کے ماتحت ہو۔دعا عجز کی متقاضی ہوتی ہے لیکن دعا کے علاوہ بھی ہم پر عاجزانہ رنگ غالب رہنا چاہیے۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ اگر ایک نوکر کو کوئی ضرورت در پیش ہو تو آقا کے سامنے جا کر عاجزانہ رنگ اختیار کرتا ہے اس لئے کہ اس کی ضرورت اسے مجبور کرتی ہے کہ وہ ایسا کرے مگر کیا تم سمجھ سکتے ہو کہ اگر وہ ضرورت پوری کراتے وقت تو عاجزانہ رنگ اختیار کرے لیکن اسکی عادت یہ ہو کہ بعد میں اکٹر جائے اور آقا کے سامنے متکبرانہ رنگ اختیار کرے تو وہ آقا اس کی ضرورت کو پورا کر دے گا؟ کبھی نہیں۔ضرورت کے وقت تو ہر شخص عاجز بن سکتا ہے۔مشرک بھی ضرورت کے وقت اپنا ماتھا خدا کے آگے رگڑ سکتا ہے۔پس صرف دعا کے وقت عاجزی دکھانے کا کوئی فائدہ نہیں جب تک ہر وقت تم عاجزانہ رنگ کا غلبہ نہیں رہتا۔یہ مت خیال کرو کہ اگر تم دعا کے وقت خدا تعالی کے آگے کچھ رو لیتے ہو تو یہ تمہارے لئے کافی ہے۔دعا کے وقت رونا کوئی بڑی بات نہیں۔بعض دفعہ انسان دوسرے کی مصیبت کا تصور کر کے بھی رو پڑتا ہے اور بعض دفعہ اپنی مصیبت پر غور کر کے بھی انسان کے آنسو نکل آتے ہیں۔بالکل ممکن ہے ایک انسان اسی قسم کے اثرات کے ماتحت دعا میں روتا ہو مگر دوسرے وقت فرعون سے بھی بڑھ کر ظالم ہو۔