خطبات محمود (جلد 15) — Page 121
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء گا۔ذریعہ ہم نہیں تھے بلکہ غیر احمدی امام مسجد ذریعہ بنے۔تو کئی دفعہ مخالفتیں فائدہ بخش ہو جاتی ہیں۔میں نے اس سفر سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ باوجود مخالفت کے خداتعالی کا یہ فضل بھی ہو رہا ہے کہ اس مخالفت کی وجہ سے لوگوں کی توجہ احمدیت کی طرف پھر رہی ہے۔یہ تو میں نہیں کہہ سکتا کہ اتنی بیعت ایک دن کے لیکچر کا نتیجہ تھی بلکہ ان لوگوں کو پہلے سے تبلیغ ہو چکی لیکن وہ تین سے چھ ہزار تک لوگ جو جلسوں میں شامل ہوتے رہے، ان کے دلوں میں بھی ایک بیج بویا گیا ہے جو آج نہیں تو کل اور اس مہینہ میں نہیں تو اگلے مہینہ میں پھوٹے جب باوجود نکاح ٹوٹ جانے کی دھمکی دیئے جانے کے وہ شوق سے ہمارے جلسوں میں آئے تو اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ان کے دلوں میں ہدایت کی تڑپ ہے جو کسی روز اپنا رنگ لائے گی۔سب سے زیادہ ڈر لوگوں کو نکاح ٹوٹنے کا ہوتا ہے اور یہی مولویوں کا آخری ہتھیار ہے جس سے وہ کام لیا کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب سیالکوٹ تشریف لے گئے تو اُس وقت میری عمر چودہ پندرہ سال کے قریب تھی۔مجھے یاد ہے پیر جماعت علی شاہ صاحب اور ان کے مریدوں نے یہ فتویٰ دے دیا کہ جو احمدیوں۔سے ملے گا اُس کا نکاح ٹوٹ جائے گا۔چونکہ مخالفت زوروں پر تھی اس لئے جماعت کے لوگوں کا خیال تھا کہ لیکچر میں صرف جماعت کے ہی لوگ شامل ہوں گے ، دوسرے لوگ نہیں آئیں گے اور بعض کے دل میں اسی وجہ سے یہ وسوسہ پیدا ہوا کہ لیکچر گاہ محدود جگہ میں بنائی جائے تا کم لوگوں کے آنے کی وجہ سے جماعت کی سُبکی نہ ہو مگر جلسہ وہیں ہوا جہاں انتظام کیا گیا تھا۔میں نے دیکھا مولوی ہر دروازہ پر کھڑے ہو کر یہ شور مچارہے تھے کہ دیکھنا اندر نہ جانا ورنہ نکاح ٹوٹ جائے گا چھپے ہوئے اشتہار بھی تقسیم کرتے جاتے مگر لوگ بے تحاشہ جلسہ گاہ کی طرف آتے اور جب مولوی اُنہیں کہتے کہ نکاح ٹوٹ جائے گا تو کہتے نکاح تو سوا روپیہ دے کر پھر بھی پڑھالیں گے مگر مرزا صاحب نے معلوم نہیں پھر آتا ہے یا نہیں، انہیں تو ایک دفعہ دیکھ لیں۔اس مخالفت کا عجیب اثر تھا۔اُس وقت ایک انگریز بی ٹی صاحب سپرنٹنڈنٹ پولیس تھے اور اس پولیس کے جو لیکچر کیلئے متعین تھی، انچارج تھے۔جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام لیکچر چکے تو بعض نے پتھر مارنے کی کوشش کی۔گو پولیس کا انتظام نہایت اعلیٰ تھا اور لوگوں کی شورش کوئی نتیجہ پیدا نہ کر سکی مگر جب لوگوں نے شورش برپا کرنی چاہی تو بیٹی صاحب نے کہا میں نہیں سمجھتا یہ لوگ کیوں شور مچارہے ہیں۔یہ شخص خدا تو ہمارا مارتا ہے پھر انہیں غصہ