خطبات محمود (جلد 15) — Page 87
خطبات محمود AL سال ۱۹۳۴ء کیا کہ گھر میں تو سارا دن حقہ اڑاتے رہے اور جماعت احمدیہ پر اعتراض کرتے رہے کہ جہاد نہیں کرتی، جہاد نہیں کرتی۔اگر حقہ کے کش لگانے سے اور جماعت احمدیہ پر اعتراض کر دینے سے ہی کوئی شخص مجاہد بن سکتا ہے تو ایسے مجاہد تو ہر جگہ موجود ہو سکتے ہیں لیکن کیا یہ جہاد کو جائز سمجھتے ہوئے درست طریق عمل ہے؟ اگر ہم پر اعتراض کرنے والے انگریزوں سے لڑیں اور انہیں ہندوستان سے باہر نہ نکال سکیں تو کم سے کم ان سے لڑتے ہوئے مر جائیں اور اس جنگ کے وقت وہ ہم پر اعتراض کریں کہ ہم تو میدانِ جہاد میں کام کر رہے ہیں اور یہ منافق پیچھے بیٹھے ہوئے ہیں تو گو پھر بھی ہم ان کے اعتراض کو درست نہ سمجھیں مگر اس حالت میں اس قسم کے اعتراض کا اُن کو حق ضرور ہو گا۔مگر اب یہ حالت ہے کہ ہم پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ جہاد نہیں کرتے اور خود جہاد کو جائز سمجھنے کے باوجود گھر میں صبح۔شام تک حقہ اُڑاتے رہتے ہیں۔یا شعر بازی کر لیتے ہیں لیکن کبھی خیال بھی نہیں آتا کہ جہاد کیلئے نکلیں۔پھر جب ہماری طرف سے یہ کہا جائے کہ شرائط موجود نہ ہونے کی وجہ سے ہم جہاد بالسیف نہیں کرتے تو دین کیلئے اپنے اموال تو خرچ کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے یہ بھی کوئی قربانی ہے حالانکہ اگر اپنے مالوں کو خرچ کرنا بیوی بچوں کو چھوڑ کر غیر ممالک میں اعلائے کلمتہ اللہ کیلئے نکل جانا کوئی بڑی بات نہیں تو وہ ایسی ہی قربانی کیوں کر کے نہیں دکھا دیتے۔مگر وہ قربانی جسے وہ بڑی سمجھتے ہیں وہ بھی نہیں کرتے اور جسے چھوٹی سمجھتے ہیں وہ بھی نہیں کرتے۔اور ان کی بالکل اس بنیے کی سی مثال ہو جاتی ہے جو پنسیری ہاتھ میں لے کر کہتا ہے سر پھوڑ دوں گا اور یہ کہتے ہی دو قدم پیچھے ہٹ جاتا ہے۔یہ بھی جہاد جہاد کہتے ہیں مگر جب عمل کا وقت آتا ہے تو گھر میں چُھپ کر بیٹھ رہتے ہیں۔تاہم ہمارا ان سے جو معاملہ ہے وہ بھی خدا کے احکام کے ماتحت ہے۔۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔جَادِلُهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ھے یعنی ان لوگوں سے احسن طریق پر بحث کرو اور احسن طریق یہی ہے کہ محبت اور پیار سے انہیں سمجھائیں اور ان کیلئے دعا کریں۔اور حکومت سے ہمارا احسن طریق پر مجادلہ یہ ہے کہ ہم اس کی فرمانبرداری کریں اور اگر وہ کسی غلطی کا ارتکاب کرنے لگے تو اس پر اس کی غلطی کو واضح کر دیں۔پھر بھی اگر وہ غلطی کرے تو یہ اس کا قصور ہو گا۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم اللہ تعالیٰ سے دعائیں کریں کہ وہ لوگوں کو ہدایت دے۔ہم ایک زندہ خدا کو ماننے والے ہیں اور ہماری آخری اپیل ہمیشہ