خطبات محمود (جلد 15) — Page 86
خطبات محمود AY سال ۱۹۳۴ء قرآن مجید نے صاف الفاظ میں بتایا ہے کہ قرآن مجید ہی مومنوں کے لئے تلوار ہے۔ہے۔چنانچہ فرماتا ہے جَاهِدُهُمْ به سے اس قرآن کو لے کر کفار سے جہاد کرو۔پس قرآن مجید تمہارے پاس ہے، اس سے جتنا چاہو کام لو۔میں تمہارے ساتھ ہوں اور تمہاری تائید میں ہوں لیکن اگر تم اس تلوار سے کام لیتے ہو جو خدا تعالیٰ نے تمہیں نہیں دی یا گھبراتے ہو تو یہ بیوقوفی کی بات ہے۔پس ان باتوں میں نہ تمہیں لوگوں کا خیال کرنا چاہیے نہ گورنمنٹ کا۔ہم اگر گورنمنٹ کی تائید میں رہے ہیں اور ہیں تو صرف اس لئے کہ ہمارا مذہب ہمیں حکومتِ وقت کی فرمانبرداری کا حکم دیتا ہے۔ورنہ میں نے اپنے نفس میں خوب غور کر کے دیکھا ہے جس قسم کی حریت اسلام ہم میں پیدا کرتا ہے اگر اس کے ساتھ حکومت کی فرمانبرداری کا حکم نہ ہو تا تو میں اپنے ملک کی آزادی کی جدوجہد میں گاندھی جی سے دو قدم آگے ہی ہوتا۔ہم کیا کریں جس نے ہمیں حریت کی تعلیم دی، اسی نے یہ بھی کہہ دیا کہ ان اصول پر عمل کرو اور جس حکومت کے ماتحت رہو اس سے تعاون کرو۔پس اس حکم کے ماتحت ہم گورنمنٹ کی فرمانبرداری کرتے ہیں اور اس فرمانبرداری میں ہمارا گورنمنٹ پر کوئی احسان نہیں۔ہم اگر گورنمنٹ کی اطاعت کرکے یہ سمجھیں کہ ہم اس پر احسان کر رہے ہیں تو ہم ملک کے غدار ہیں کیونکہ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم کسی غرض کے ماتحت اس کی فرمانبرداری کرتے ہیں حالانکہ یہ صحیح نہیں بلکہ خدا کے بندھے بندھائے اس کی اطاعت کر رہے ہیں۔اللہ میاں نے کہا ہے کہ اطاعت کرو۔ہم نے کہا بہت اچھا اور ہم اطاعت کرنے لگ گئے۔اسی طرح اگر ہمارا پبلک سے معاملہ ہے تو وہ بھی خدا کے حکم کے ماتحت ورنہ کیا تم سمجھتے ہو اگر خدا یہ کہتا کہ لٹھ اُٹھا کر مخالفین اسلام کا سر پھوڑ دو تو میں اِس حکم کے بجالانے میں کسی سے پیچھے رہتا ؟ ایک دفعہ میں لاہور گیا اور مجھ سے ایک شخص ملنے آیا۔مجھے یاد نہیں وہ کسی کالج کا پروفیسر تھا یا طالب علم ، آکر کہنے لگا کہ آپ کی جماعت جہاد کی منکر ہے۔میں نے کہا منکر ہماری جماعت ہی نہیں بلکہ آپ بھی ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ ہم کہتے ہیں ان دنوں جہاد کی شرائط چونکہ موجود نہیں، اس لئے جہاد نہیں کرنا چاہیے۔اور آپ جہاد کے قائل ہیں مگر کرتے نہیں۔گویا جہاد نہ کرنے میں تو ہم دونوں برابر ہیں مگر ہم اپنے عقیدہ کے مطابق جہاد نہیں کرتے اور آپ باوجود جہاد کو موجودہ زمانہ میں جائز سمجھنے کے منافقت کی وجہ سے جہاد نہیں کرتے۔پھر میں نے کہا اگر آپ جہاد کو جائز سمجھتے ہیں تو کیوں جا کر چند انگریزوں کو مار نہیں آتے۔مگر یہ