خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 57

خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء تھے اور اپنی طاقت کے لحاظ سے جس قدر کام کر سکتے تھے اور جتنا اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ، کرسکتے تھے، وہ انہوں نے حاصل کرلیا۔اسی طرح رسول کریم ال بھی کامل تھے۔مگر رسول کریم ﷺ نے اپنی طاقتوں کے مطابق اللہ تعالی کا قرب حاصل کیا اور اس لحاظ سے مدارج میں فرق ہو گیا۔ورنہ حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسی علیہ السلام اور باقی تمام انبیاء علیہم السلام کامل تھے۔اور باوجود اس کے کہ رسول کریم ﷺ سب انبیاء سے بڑھ کر ہیں ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ باقی انبیاء ناقص ہیں بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ای افضل الرسل ہیں۔ہاں کامل سب نبی ہیں۔اسی رنگ میں، صدیق شہید اور صالحین کا مقام ہوتا ہے۔یہ تمام اپنے اپنے دائرہ میں ایک نقطہ کمال تک پہنچے ہوئے ہوتے ہیں اور اگر کوشش کریں تو دوسرا مقام بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ایک دوسری جماعت کے طالب علم سے جب پوچھا جاتا ہے کہ ۱۰+۱۵+۱۶ کتنے ہوتے ہیں۔اگر وہ ۴۱ کہہ دے تو اسے انعام دیا جاتا ہے۔لیکن انٹرنس میں پڑھنے والا لڑکا اس سے بہت زیادہ باتیں حساب کی بتاتا مگر فیل ہو جاتا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ دوسری جماعت کے لڑکے کا مقام کمال اور ہے اور دسویں جماعت کے لڑکے کا مقام کمال اور دوسری جماعت والا دسویں جماعت کے فیل شدہ لڑکے کے مقابلہ میں جاہل ہے۔مگر اپنی جماعت کے دوسرے ساتھیوں کے مقابلہ میں اگر زیادہ ہوشیار ہو تو کامل ہے۔اور جب وہ سوال حل کرلیتا ہے تو ہم اُسے فرسٹ کہتے ہیں بلکہ انعام کا مستحق قرار دے دیتے ہیں لیکن جب ہم اُسے ٹرسٹ کہتے ہیں تو اس کا یہی مطلب ہوتا ہے کہ وہ اپنے مقام کے دوسرے لڑکوں کے مقابلہ میں کامل ہے۔یہی حالت روحانیات کے مقام میں انبیاء سے نچلے درجہ کے لوگوں کی ہوتی ہے۔جس طبقہ میں وہ ہوتے ہیں اس میں تو وہ کمال حاصل کر لیتے ہیں لیکن اگلے طبقہ کے لحاظ سے ناقص ہوتے ہیں اور جب تک وہ مزید تبدیلی پیدا نہ کریں اور ایک جماعت سے دوسری جماعت میں ترقی نہ کریں، اُس وقت تک دوسرا کمال حاصل نہیں ہو سکتا۔مگر جماعت کی ترقی کس طرح ہوا کرتی ہے؟ کبھی تم نہیں دیکھو گے کہ دوسری جماعت میں پڑھتے پڑھتے ہی ایک لڑکے کو انٹرنس کی لیاقت حاصل ہو جائے بلکہ اس کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ دوسری سے ترقی کر کے تیسری میں جائے اور تیسری سے چو سے چوتھی میں یہاں تک کہ دسویں جماعت تک پہنچ جائے لیکن اگر وہ اس طرح نہ کرے اور دوسری ہی جماعت میں دس سال بیٹھا رہے تو اسے انٹرنس کی لیاقت حاصل نہ ہوگی۔پس ترقی ہمیشہ قدم آگے بڑھانے