خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 507 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 507

خطبات محمود ۵۰۷۔سے ملتی ہے۔پس رمضان ہمیں توجہ دلاتا ہے کہ اگر مقصد میں کامیاب ہونا چاہتے ہو تو ضروری ہے کہ شدائد اور مصائب کو قبول کرو راتوں کی تاریکیاں قبول کرو اور ان چیزوں سے گھبراؤ ہرگز نہیں یہ کامیابی کا گر ہے اور اسی رستے سے تم بھی خدا تک پہنچ سکتے ہو۔پس میں احباب کو توجہ دلاتا ہوں کہ جو مشکلات اس وقت ہمارے سامنے ہیں اور جن کے متعلق میں گذشتہ خطبات میں تفصیل سے بیان کرچکا ہوں ان سے گھبرائیں نہیں اور اس سلسلہ میں جو قربانیاں بھی کرنی پڑیں وہ کریں اور اس میں کوئی گھبراہٹ محسوس نہ کریں کیونکہ یہ ترقی کیلئے ضروری ہیں۔دشمن زیادہ سے زیادہ تمہیں جو نقصان پہنچا سکتا ہے وہ یہی ہے کہ ماردے مگر وہ موت جو خدا کی راہ میں تمہیں نصیب ہو بہترین زندگی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے کہ جو لوگ خدا کی راہ میں مارے جائیں انہیں مُردہ مت کہو کیونکہ وہ زندہ ہیں ہے دراصل ان مشکلات سے نیک وبد میں امتیاز ہو جاتا ہے ست لوگ ہوشیار ہو جاتے ہیں۔جب میں ابھی خطبہ بیان کر رہا تھا تو چاروں طرف سے لبیک لبیک اور ہم تیار ہیں کی آوازیں آرہی تھیں مگر جب میں نے تفاصیل کو بیان کیا تو بعض جماعتیں بالکل خاموش ہو گئیں اور پہلی لبیک کو بھول گئیں اور بعض نے اخلاص کا ایسا نظارہ دکھایا کہ میرے ذہن میں بھی نہ آسکتا تھا اور اس طرح ایک امتیاز ہو گیا۔سب سے زیادہ قربانی کی مثال اور اعلیٰ نمونہ قادیان کی جماعت نے دکھایا ہے۔دشمن اعتراض کرتے ہیں کہ یہاں منافق جمع ہیں۔ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ منافق ایسی شاندار قربانیاں نہیں کرسکتے۔یہاں کی احمدی آبادی سات ہزار کے قریب ہے۔پنجاب میں احمدیوں کی آبادی سرکاری مردم شماری کے رو سے ۱۹۳۱ء میں ۵۶ ہزار تھی جو بہت کم ہے۔لیکن اگر ہم اسی کو درست سمجھ کر آج ۷۰ ہزار بھی سمجھ لیں تو گویا قادیان کی جماعت سارے پنجاب کا دسواں حصہ ہے لیکن ساڑھے ستائیس ہزار روپیہ کی تحریکات میں قادیان کی جماعت کی طرف سے پانچ ہزار روپیہ نقد اور وعدوں کی صورت میں آیا ہے اور ایسے ایسے لوگوں نے اس میں حصہ لیا ہے کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔اگرچہ مجھے افسوس ہے کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو زیادہ حصہ لے سکتے تھے۔مگر کم لیا ہے مگر ایک خاصی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جنہوں نے اپنی حیثیت اور طاقت سے زیادہ حصہ لیا ہے۔بعض لوگ تو ایسے ہیں جنہوں نے سارا اندوختہ دے دیا ہے، بعض ایسے ہیں جن کی چار چار پانچ پانچ روپیہ کی آمدنیاں ہیں اور انہوں نے کمیٹیاں ڈال کر اس میں حصہ لیا۔یا کوئی جائداد فروخت کر کے جو کچھ جمع کیا