خطبات محمود (جلد 15) — Page 482
خطبات محمود ۴۸۲ سال ۱۹۳۴ء میں نے قریباً چار روپیہ میں خریدی ہے مگر بازار میں گیارہ بارہ سے کسی طرح کم میں نہ آئے دور کا سفر تھا اور دوسروں کے بھی پیچھے بچے تھے۔ایک دو کو خیال آیا کہ ہم بھی ایسی گڑیا لے چلیں وہ گئے اور واپس آکر کہنے لگے کہ یہ تو کہیں بھی سولہ شلنگ سے کم میں نہیں ملتی۔جو گیارہ روپے کے قریب بنتے ہیں۔تو میں نے تجربہ کیا ہے کہ اگر مجھے خود سودا خریدنے کا موقع ملے تو چیز مستی مل جاتی ہے۔ولایت کی ایک بڑی دکان ہے جہاں سے بادشاہ اور ملکہ بھی سودا خریدتے ہیں میں نے وہاں سے ایک چیز خریدی۔ان کا دستور ہے کہ چیز کی قیمت کم نہیں کرتے مگر میں نے کم کرا کے خریدی۔ایک انگریز نے مجھ سے پوچھا کہ آپ نے یہ چیز کہاں سے لی ہے۔میں نے اسے بتایا کہ فلاں دُکان سے لی ہے اور قیمت کم کرا کے لی ہے۔وہ حیران ہوا اور کہنے لگا کہ وہاں تو قیمت کم کرنے کا کوئی نام لے تو وہ باہر نکال دیتے ہیں کہ تم ہماری ہتک کرتے ہو۔تو انسان اگر ہوشیاری سے سودا کرے تو ستا خرید سکتا ہے۔رسول کریم ال نے ایک دفعہ ایک صحافی کو ایک دینار دیا کہ ایک بکرا خرید لاؤ۔وہ گیا اور واپس آکر بکرا بھی دے دیا اور دینار بھی۔آپ نے فرمایا دینار کیسا واپس کر رہے ہو۔اس نے کہا کہ میں شہر سے ذرا دور چلا گیا تھا اور وہاں سے ایک دینار میں دو بکرے خریدے کیونکہ وہاں سستے ملتے تھے۔رستہ میں ایک شخص نے دریافت کیا کہ بکرے کا کیا لو گے۔میں نے کہا ایک دینار اور یہاں چونکہ ایک دینار ہی کا بکرا ملتا ہے، اس نے ایک دینار دے کر بکرا خرید لیا اس لئے دینار بھی حاضر ہے اور بکرا بھی۔آپ نے اس کیلئے دعا کی کہ خدا تعالی ہمیشہ اس کے سودے میں برکت دے اور صحابہ کا بیان ہے کہ وہ اگر مٹی میں ہاتھ ڈالتا تو سونا ہو جاتی۔لوگ تجارت کیلئے اسے اس کثرت سے روپیہ دیتے کہ اسے انکار کرنا پڑتا مگر پھر بھی لوگ اس کی ڈیوڑھی میں پھینک کر چلے جاتے ہے۔تو اگر ہوشیاری سے چیز خریدی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ سستی نہ بعض لوگ جاتے ہیں اور دُکاندار سے کہہ دیتے ہیں کہ ستا سودا دینا اور سمجھ لیتے ہیں کہ ستا خریدنے کی ہم نے پوری کوشش کرلی۔یہ سادگی ہے یا بددیانتی کہ محنت نہ کی اور سمجھ لیا کہ کرلی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک السَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ صحابی تھے جو بہت مخلص تھے مگر بہت سادہ طبیعت تھے۔وہ آتے وقت آپ کیلئے ضرور کوئی نہ کوئی پھل وغیرہ لے آتے مگر ان کے خریدنے کا طریق یہ تھا کہ دُکان پر گئے اور کہا میاں اچھے