خطبات محمود (جلد 15) — Page 464
خطبات محمود موسم سال ۱۹۳۴ء نہیں کرتے۔اور نتیجہ یہ ہوا ہے کہ بعض صیغوں میں احمدی زیادہ ہو گئے ہیں اور بعض بالکل خالی ہیں۔پس میں چاہتا ہوں کہ اعلیٰ تعلیم ایک نظام کے ماتحت ہو اور اس کیلئے ایک ایسی کمیٹی مقرر کر دی جائے کہ جو لوگ اعلیٰ تعلیم دلانا چاہیں وہ لڑکوں کے نام اس کمیٹی کے سامنے پیش کردیں۔پھر وہ کمیٹی لڑکوں کی حیثیت ان کی قابلیت اور ان کے رجحان کو دیکھ کر فیصلہ کرے کہ فلاں کو پولیس کے محکمہ کیلئے تیار کیا جائے، فلاں کو انجینئرنگ کی تعلیم دلائی جائے، فلاں کو بجلی کے محکمہ میں کام سیکھنے کیلئے بھیجا جائے، فلاں ڈاکٹری میں جائے، فلاں ریلوے میں جائے وغیرہ وغیرہ۔یعنی ان کیلئے الگ الگ کام مقرر کریں تاکہ کوئی صیغہ ایسا نہ رہے جس میں احمدیوں کو کافی دخل نہ ہو جائے۔اب صرف تین یا چار صیغوں میں احمدیوں کا دخل ہے اور باقی خالی پڑے ہیں۔میں سمجھتا ہوں اس بارے میں معمولی سا نظام قائم کرنے - سلسلہ کو بہت بڑی طاقت حاصل ہو سکتی ہے اور وہ لڑکے جن کی زندگیاں ضائع ہو جاتی ہیں بچ سکتے ہیں۔اور کئی نوجوان جو اچھے اور اعلیٰ درجہ کے کام نہیں کر رہے، کرنے لگ جائیں گے اور کئی محکموں میں ترقی کرنے کا رستہ نکل آئے گا۔اگر ایسے سو آدمی بھی اپنے لڑکوں کو پیش کر دیں اور کمیٹی ان لڑکوں کے متعلق فیصلہ کرے تو اس کا نتیجہ بہت اچھا نکل سکتا ہے۔دوسرے صوبوں میں یہ کمیٹی اپنی ماتحت انجمنیں قائم کرے جو اپنے رسوخ اور کوشش سے نوجوانوں کو کامیاب بنائیں۔اس کام کیلئے جو کمیٹی میں نے مقرر کی ہے اور جس کا کام ہو گا کہ اس بارے میں تحریک بھی کرے اور اس کام کو جاری کرے اس کے فی الحال تین ممبر ہوں گے۔جن کے نام یہ ہیں۔(۱) چوہدری ظفر اللہ خانصاحب (۲) خانصاحب فرزند علی صاحب (۳) میاں بشیر احمد صاحب۔یہ اس تحریک کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں اور کام کو جاری کرنے کی ممکن تدابیر عمل میں لائیں۔پندرھواں مطالبہ جو جماعت سے بلکہ نوجوانان جماعت سے ہے یہ ہے کہ جیسا کہ نے بتایا ہے بہت سے نوجوان بیکار ہیں۔میں ایک مثال دے چکاہوں کہ ایک نوجوان اسی قسم کی تحریک پرولایت چلے گئے اور وہاں سے کام سیکھ کر آگئے۔اب وہ انگلش ویئر ہاؤس لاہور میں اچھی تنخواہ پر ملازم ہیں۔وہ جب گئے تو جہاز پر کوئلہ ڈالنے والوں میں بھرتی ہو گئے۔ولایت جا کرانہوں نے کٹر (Cutter) کا کام سیکھا اور اب اچھی ملازمت کر رہے ہیں۔وہ نوجوان جو گھروں میں بیکار بیٹھے روٹیاں توڑتے ہیں اور ماں باپ کو مقروض بنا رہے ہیں، انہیں چاہیے کہ اپنے وطن چھوڑیں اور نکل جائیں۔جہاں تک دوسرے ممالک کا تعلق ہے اگر وہ اپنے لئے صحیح انتخاب