خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 41

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء ہمدردی کرنا ضروری ہے۔مامورین اور ان کی جماعتوں کے اندر ہمدردی اور رافت و رحمت کا ہونا بھی ضروری ہے اور یہ بھی دراصل ان کا ایک نشان ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جب کسی نے ذکر کیا کہ جماعت کے بعض لوگ روحانیت میں کمزور ہیں تو آپ نے فرمایا آپ ایسا کیوں نہیں کرتے کہ ان کیلئے دعا کریں۔میری اپنی کیفیت تو یہ ہے کہ اگر میں کسی بھائی کو دیکھوں کہ شراب کے نشہ سے مخمور ہو کر نالی میں پڑا ہے تو اسے اُٹھا کر گھر لے آؤں تا ہوش میں آنے پر وہ شرمندہ نہ ہو۔پھر اسے ہوش میں لاؤں، علیحدگی میں نصیحت کروں اور اس کیلئے دعا کروں۔مأمورین کی جماعتوں کے متعلق یہ رافت و رحمت بھی ایک نشان ہی ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ بتاتا ہے کہ اگر ایک طرف دنیا میں اس قدر بد کاری پھیلی ہوئی ہے وہ جو ایسے عذابوں کا موجب ہے تو دوسری طرف ہمارے بندوں میں اس قدر نیکی بھی ہے کہ مصیبت زدگان سے ہمدردی کرتے ہیں اور ہمارے مامور کے ذریعہ وہ اس قدر نیک ہو گئے ہیں کہ کفار سے بھی ہمدردی رکھتے ہیں۔تو یہ ہمدردی بھی ایک قسم کا نشان ہی ہوتا ہے۔ایک طرف اللہ تعالیٰ اپنا عذاب بھیجتا ہے اور دوسری طرف نبی کی جماعت کو رحمت کے طور پر کھڑا کردیتا ہے۔مجھے افسوس ہے کہ آج جمعہ کیلئے آنے میں دیر ہو گئی۔میں نے گھڑی نہ دیکھی۔مؤذن نے جب مجھے اطلاع دی تو وقت کافی تھا لیکن ایسا ذہول ہوا کہ میں جلدی نہ آسکا۔پھر جو گھڑی کو دیکھا تو معلوم ہوا کہ نماز کا وقت جا رہا ہے اس لئے لمبا مضمون تو بیان نہیں کر سکتا۔صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ عذاب ایسا ہے کہ اس میں رافت و ہمدردی ضروری ہے اور مصیبت زدگان کے ساتھ سب سے زیادہ ہمدردی کرنا ہمارا فرض ہے کیونکہ ایک طرف تو ہم صفات الہی کے ظہور کا نشان اور ان کا مظہر قرار دیئے گئے ہیں۔اور دوسری طرف یہ امر بھی ہے کہ عذاب جب آتے ہیں تو لوگوں کے دل نرم ہو جاتے ہیں اور ڈاکٹر جب نشتر لگاتا ہے تو پھر مرہم بھی رکھتا ہے۔اگر اس وقت ہم محبت اور اخلاص سے کام لیں تو لوگ سمجھیں گے کہ گو یہ لوگ پیشگوئی کے پورا ہونے پر خوش بھی ہیں مگر ہم سے ہمدردی بھی رکھتے ہیں۔ہمارے مخالف ہمیشہ ہم پر یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ یہ دوسروں کے مصائب پر خوش ہوتے ہیں۔نادر شاہ والی پیشگوئی کے پورا ہونے پر میں نے جو مضمون لکھا، اس کے متعلق بھی ایک صاحب نے کہا کہ یہ خوش ہوئے ہیں۔میں نے کہا کہ یہ بات ہر گز نہیں۔میرا مضمون پڑھ کر دیکھ لو اس میں رنج ہی رنج ہے۔باقی پیشگوئی کے پورا ہونے کے متعلق جو خوشی ہے، وہ اسی