خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 463

خطبات محمود وم سال ۱۹۳۴ و غرض قادیان میں پرورش پانے والے بچوں میں ایسا بیج بویا جاتا ہے اور سلسلہ کی محبت ان کے دلوں میں ایسی جاگزیں ہو جاتی ہے کہ خواہ ان میں سے کسی کی حالت کیسی ہی ہو جس کی خدمت کیلئے آواز اُٹھتی ہے تو ان کے اندر سے لبیک کی سر پیدا ہو جاتی ہے۔إِلا مَا شَاءَ اللهُ - لیکن اِس وقت میں ایک خاص مقصد سے یہ تحریک کر رہا ہوں۔ایسے لوگ اپنے بچوں کو پیش کریں جو اس بات کا اختیار دیں کہ ان بچوں کو ایک خاص رنگ اور خاص طرز میں رکھا جائے اور دینی تربیت پر زور دینے کیلئے ہم جس رنگ میں ان کو رکھنا چاہیں رکھ سکیں۔اس کے ماتحت جو دوست اپنے لڑکے پیش کرنا چاہیں کریں ان کے متعلق میں ناظر صاحب تعلیم و تربیت سے کہوں گا کہ انہیں تہجد پڑھانے کا خاص انتظام کریں۔قرآن کریم کے درس اور مذہبی تربیت کا پورا انتظام کیا جائے اور ان پر ایسا گہرا اثر ڈالا جائے کہ اگر ان کی ظاہری تعلیم کو نقصان بھی پہنچ جائے تو اس کی پرواہ نہ کی جائے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ ان کی ظاہری تعلیم کو ضرور نقصان پہنچے اور نہ بظاہر اس کا امکان ہے لیکن دینی ضرورت پر زور دینے کی غرض سے میں کہتا ہوں کہ اگر ان کی دینی تعلیم و تربیت پر وقت خرچ کرنے کی وجہ سے نقصان پہنچ بھی جائے تو اس کی پرواہ نہ کی جائے۔اس طرح ان کیلئے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جائے جو اُن میں نئی زندگی کی روح پیدا کرنے والا ہو۔۔چودھواں مطالبہ یہ ہے کہ بعض صاحب حیثیت لوگ ہیں جو اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانا چاہتے ہیں، ان سے میں کہوں گا کہ بجائے اس کے کہ بچوں کے منشاء اور خواہش کے مطابق ان کے متعلق فیصلہ کریں یا خود یا اپنے دوستوں کے مشورہ سے فیصلہ کریں وہ اپنے لڑکوں کے مستقبل کو سلسلہ کیلئے پیش کردیں۔اس کیلئے ایک کمیٹی بنادی جائے گی اس کے سپرد ایسے لڑکوں کے مستقبل کا فیصلہ کر دیا جائے۔وہ کمیٹی ہر ایک لڑکے کے متعلق جو فیصلہ کرے اس کی پابندی کی جائے۔اب یہ ہوتا ہے کہ اگر ایک لڑکا آئی سی۔ایس کی تیاری کرتا ہے تو سب اسی طرف چلے جاتے ہیں اگر وہ سارے کے سارے پاس بھی ہو جائیں تو اتنی جگہیں کہاں سے نکل سکتی ہیں جو سب کو مل جائیں۔لیکن اگر لڑکوں کو علیحدہ علیحدہ کاموں کیلئے منتخب کیا جائے اور ان کیلئے تیاری کرائی جائے تو پھر انہیں ملازمتیں حاصل کرنے میں بھی کامیابی ہو سکتی ہے اور سلسلہ کی ضرورتیں بھی پوری ہو سکتی ہیں۔موجودہ حالات میں جو احمدی اعلیٰ عہدوں کی تلاش کرتے ہیں وہ کسی نظام کے ماتحت