خطبات محمود (جلد 15) — Page 338
خطبات محمود ٣٣٨ سال ۱۹۳۴ء روک دیا کہ مسلمانوں کے مقدمہ میں مسلمانوں کی ہندوؤں کے مقدمہ میں ہندوؤں کی گواہی سنی جاتی ہے تو احمدیوں کے مقدمہ میں احمدیوں کی گواہی کیوں قبول نہ کی جائے گی۔دوبارہ پھر اس امر کی طرف اشارہ کرنے پر فاضل جج نے کہا کہ میں نے مسل کا مطالعہ کیا ہے اور میرے نزدیک احمدی گواہوں نے عام گواہوں سے زیادہ کچی گواہی دی ہے اس لئے میں اس دلیل کو سننے کیلئے تیار نہیں۔حکومت کا عدالتی حصہ یہ رویہ اختیار کرتا ہے اور انتظامی وہ جو اوپر بیان ہوا۔ببیس تفاوت راه از کجاست تا به کجا پانچواں واقعہ: جب گورنمنٹ کی طرف سے ہم پر اتنی مہربانیاں ہو رہی تھیں کہ کہیں تعمیر مسجد کا شاخسانہ کھڑا کر کے ہم پر یہ الزام لگایا جارہا تھا کہ ہم نے احراریوں پر حملہ کیا، کہیں پھاٹک کا واقعہ پیش کر کے بتایا جاتا تھا کہ احمدیوں نے سڑکیں روک لیں ، کہیں جلسہ غیر احمدیاں کے موقع پر رپورٹ کی جاتی تھی کہ ہزاروں خون ہونے کا احتمال تھا، کہیں ڈاک خانہ کے بابو کے فرائض منصبی میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام ہم پر عائد کیا جاتا تھا، اس وقت ایک ذمہ دار پولیس افسر نے مجھ سے بھی اور بعض دیگر کارکنان جماعت سے کہا کہ حکومت ہم سے پوچھتی ہے کہ کیوں احمدیوں کی اس قدر رعایت کی جاتی ہے، کیوں یہاں تعزیری چوکی مقرر کرنے کی سفارش نہیں کی جاتی۔کوئی بتائے کہ آج تک کہیں بھی ایسا ہوا ہے کہ کسی نے سمال ٹاؤن کمیٹی کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عمارت کی تعمیر کرنی شروع کردی ہو ، کسی نے قانون شکنی کرکے دوسرے فریق کو دق کرایا ہو اور دھمکی پرامن فریق کو دی جائے کہ تم پر تعزیری چوکی قائم کرنے کا حکومت کو خیال ہے۔چھٹا واقعہ: اس اندھیر گردی کا یہ ہے کہ کسی نے جھوٹی رپورٹ کردی کہ بعض احمدیوں نے سکھوں کے ایک گاؤں میں جاکر کہا ہے کہ حضرت باوانانک علیہ الرحمۃ گائے کا گوشت کھایا کرتے تھے۔میں نے جب یہ بات سنی تو مجھے طبعاً بُرا معلوم ہوا اور میں نے سمجھا کہ اگر کسی احمدی نے ایسا کہا ہے تو اس نے غلطی کی کیونکہ ہم حضرت باوا صاحب کی طرف جو امور منسوب کرتے ہیں، وہ ان کے شہروں میں موجود ہیں مگر جہاں تک میرا علم ہے گو میں سکھوں کے مذہب کا زیادہ واقف نہیں، ایسا کوئی شبہ نہیں جس میں یہ ذکر ہو کہ باوا صاحب نے گائے کا گوشت کھایا۔پس اگر ایسا ہوا تو علاوہ اس کے کہ یہ ایک اشتعال انگیز فعل تھا