خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 304

مناسبات محمود سال ۱۹۳۴ء کیا گیا ہے۔اس حکم کے بعد اگر انکار کیا جاتا تو یہ البتہ رسول نافرمانی کہلا سکتی تھی لیکن ایس پی یا ڈی سی کی خواہش پر انکار کرنا سول نافرمانی نہیں۔اس صورت میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا تھا کہ تعاون نہیں کیا گیا۔مگر یہ حکومت کو تہہ و بالا کرنے والی کوئی صورت نہیں اور اگر حکومت ایسا ہی سمجھتی ہے تو پھر ہمارے یہ شکوک صحیح ہیں کہ یہاں حکومت احراریوں کی ہے۔یہاں لوگوں کو کسی سرکاری چھاؤنی یا پولیس پر حملہ کرنے کیلئے نہیں بلایا گیا تھا۔اگر مان تک لیا جائے کہ وہ حملہ کیلئے ہی بلائے گئے تھے تو وہ حملہ احراریوں پر ہو سکتا تھا اور جب حکومت یہ قرار نہ دے لے کہ وہ احراری ہے اور جو ان پر حملہ کرتا ہے، وہ حکومت پر حملہ کرتا ہے اس وقت تک یہ نہیں کہہ سکتی کہ یہاں جو لوگ بلائے گئے وہ حکومت کو تہہ وبالا کرنے کی غرض سے بلائے گئے تھے۔ان تمام امور کی موجودگی میں حکومت پنجاب نے مجھے ایسا غیر منصفانہ نوٹس دیا اور ایسے قانون کے ماتحت دیا جس میں صاف لکھا ہے کہ رسول نافرمانی اور حکومت کا تختہ الٹنے کی سازشیں کرنے والوں کیلئے ہے۔پس حکومت نے سخت بے انصافی کی جب اس نے (اول) اس شخص کو نوٹس دیا جس کی طرف سے سرکلر جاری نہیں ہوا تھا۔اور جاری کرنے والے کو نہ دیا اگر حکومت ایسا نوٹس دینا ضروری سمجھتی تھی تو جس کے دستخط تھے اسے ریتی اور وہ بھی اس قانون کے مطابق نہ دیا جاسکتا تھا جو سول نافرمانی کو روکنے کیلئے ہے۔(دوم) گورنمنٹ نے بے انصافی کی، اس وقت نوٹس دے کر جبکہ میں گھنٹے پہلے اس کے ذمہ دار افسروں سے اس کی منسوخی کا وعدہ کیا جاچکا تھا اور جبکہ عملاً اس حکم کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔حالانکہ قصور اس کے اپنے حکام کا تھا کہ کیوں انہوں نے فون یا تار سے بالا افسروں کو اطلاع نہ دی جبکہ گورداسپور میں یہ دونوں ذرائع میسر ہیں۔(سوم) حکومت نے سخت بے انصافی کی جبکہ رسول نافرمانی کا غلط الزام مجھ پر لگایا گیا حالانکہ نہ کوئی حکم پہلے دیا گیا تھا اور نہ بعد میں دیا گیا۔(چهارم) حکومت نے بے انصافی کی اور سخت ظلم کیا جب اس شخص پر سول نافرمانی کا غلط الزام لگایا کہ جس نے اور جس کی جماعت نے ہمیشہ رسول نافرمانی اور اس قسم کی دوسری تحریکوں کی سخت مخالفت کی ہے اور حکومت کا تختہ اُلٹ دینے کا الزام لگا کر ہماری سخت ہتک کی ہے۔