خطبات محمود (جلد 15) — Page 25
خطبات محمود ۲۵ جماعت احمدیہ لاہور کے تبلیغی فرائض فرموده ۱۹ جنوری ۱۹۳۴ء بمقام لاہور) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔اللہ تعالی کی سنت ہے کہ جب وہ کسی گروہ یا جماعت پر فضل نازل کرتا ہے تو اس کی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ کردیتا ہے۔قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں ازواج مطہرات کے درجات بہت بلند کئے گئے، وہاں اسی تناسب سے ان پر ذمہ داریاں بھی زیادہ عائد کردی گئیں۔پس جو انعامات کسی کو دیئے جاتے ہیں وہ اس کی ذمہ داریوں کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ایسی قوم کا تمام دنیا سے علیحدہ اپنا ایک معیار بن جاتا ہے۔دوسرے لوگوں کا ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا اُس کیلئے اس بات کا باعث نہیں ہو سکتا کہ وہ بھی اب کچھ نہ کرے۔باقی لوگوں کی نسبت اس قوم سے مؤاخذہ زیادہ سختی کے ساتھ کیا جائے گا۔صحابہ کرام پر خدا نے بڑا فضل کیا لیکن اس کے مطابق اتنی ہی ذمہ داریاں اُن پر عائد کردیں۔خداتعالی نے بعد میں آنے والے بعض بزرگوں کے درجات اتنے بلند کر دیئے کہ بعض نے تو یہاں تک کہہ دیا۔پنجه در پنجه خدا دارم من چہ پروائے مصطفے وارم لیکن پھر بھی صحابہ کا اعزاز قائم رہا کیونکہ بعد میں آنے والے سب کے سب صحابہ کرام کے اعزاز کے معترف تھے۔بعد میں آنے والے بزرگوں کو تو صرف ظاہری قربانیاں ہی کرنی مثلاً روپیہ پیسہ وغیرہ کی قربانی لیکن صحابہ کرام کو علاوہ ان ظاہری خطرات کے باطنی خطرات بھی ہر وقت در پیش رہتے تھے۔ان کی جان و آبرو محفوظ نہیں تھی، ہر لحظہ انہیں پڑیں۔