خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 259

خطبات محمود ۲۵۹ سال ۱۹۳۴ء یار سُول اللہ ! ہمارا تو یہ خیال تھا کہ ہمارے بولنے کی ضرورت ہی نہیں مگر ہم سمجھ رہے ہیں کہ شاید آپ کی مراد ہم انصار سے ہے کیونکہ مہاجر کے بعد مہاجر اُٹھ رہا ہے اور لڑائی کے متعلق اپنی رائے دے رہا ہے مگر آپ پھر بھی فرمارہے ہیں کہ اے لوگو مجھے رائے دو۔اس میں یہ سمجھتا ہوں کہ شاید آپ کا منشاء یہ ہے کہ ہم انصار بولیں۔رسول کریم ! نے فرمایا تم ٹھیک سمجھے میری مراد تم انصار سے ہی ہے۔اس نے کہا یا رسول اللہ ! شاید آپ ہمارے اس معاہدہ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جو ہم میں اور آپ میں ہوا تھا کہ اگر مدینہ پر کوئی دشمن حملہ آور ہوا تو ہم آپ کا ساتھ دیں گے ورنہ نہیں۔یا رسول اللہ ! وہ اس وقت کا معاہدہ تھا جب اسلام ابھی ہمارے دلوں میں پوری طرح داخل نہیں ہوا تھا اور اسلامی احکام کی عظمت کو ہم نے پورے طور پر نہیں سمجھا تھا اب آپ کو دیکھنے اور آپ کے پاس رہنے سے ہم نے سمجھ لیا ہے کہ اسلام کی کیا حقیقت ہے۔پس یا رسُول اللہ ! کیا اس کے بعد بھی کسی معاہدہ کا سوال رہ جاتا ہے۔اُس وقت رسول کریم ال سمندر کی طرف بڑھ رہے تھے اس نے سمندر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا یا رسُول اللہ ! آپ ہمیں حکم دیجئے ہم ابھی اس میں گھوڑے ڈالنے کیلئے تیار ہیں اور اگر لڑائی پیش آئی تو یا رسول اللہ ! ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گذرے ۲ - ایک صحابی " کہتے ہیں میں رسول کریم ﷺ کے ساتھ تیرہ یا سترہ لڑائیوں میں شریک رہا ( صحیح تعداد مجھے یاد نہیں) لیکن ہمیشہ میرے دل میں خواہش رہی کہ اگر ان میں سے ایک بھی جنگ مجھے نصیب نہ ہوتی مگر یہ فقرہ جو اس صحابی نے کہا میرے منہ سے نکل جاتا تو میں آپ کو ان جنگوں میں شریک ہونے سے زیادہ خوش قسمت سمجھتا ہے۔مجھے بھی اپنی زندگی کا ایک فقرہ بہت پیارا لگتا ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی زندگی میں بہت بڑے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے مگر میرا وہ فقرہ ان سارے موقعوں سے جو مجھے ملے زیادہ قیمتی اور زیادہ اچھا معلوم ہوتا ہے۔وہ وہ فقرہ ہے جو میری زبان سے اُس وقت نکلا جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی لاہور میں وفات ہوئی اُس وقت باہر گلی میں مخالف سوانگ بھر رہے اور نسی اور ٹھٹھا کر رہے تھے۔احمدیوں کے دل پریشان تھے اور ایک سخت تکلیف کی حالت در پیش۔ایسے وقت جبکہ میں ابھی بچہ ہی تھا، انیس سال کی عمر تھی، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ