خطبات محمود (جلد 15) — Page 258
خطبات محمود ۲۵۸ سال ۱۹۳۴ء بھی اس جیسا کام کرنے لگیں تو وہ ست نہیں ہو جاتا اور دراصل یہی ایمان کا اعلیٰ مقام ہے اس سے پہلے انسان کا ایمان دوغلی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی مثال بالکل اس فیچر کی سی ہوتی ہے جو آدھی گھوڑا اور آدھی گدھا ہوتی ہے۔ایسے انسان کا نفس شرارتوں سے پاک نہیں ہوتا۔اور اس کے متعلق ہر وقت خطرہ رہتا ہے کہ وہ گر جائے لیکن جب انسان کی نظر بندوں نہیں رہتی بلکہ خدا پر جاپڑتی ہے اور وہ یہ نہیں دیکھتا کہ فلاں مجرم کی فلاں کو سزا ملی ہے یا نہیں بلکہ وہ خدا کیلئے ہر مُجرم سے نفرت کرتا ہے اس وقت وہ خدا کے فضلوں کا مستحق ہو کر رم مومن بن جاتا ہے۔میں نے ایک مثال کئی دفعہ سنائی ہے۔رسول کریم ﷺ جب جنگ بدر کیلئے نکلے پہلے آپ نے صحابہ کو نہ بتلایا کہ آپ جنگ کیلئے جارہے ہیں۔کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ لڑائی ہوگی مگر زیادہ تر لوگ یہی سمجھ رہے تھے کہ لڑائی نہیں ہوگی۔مدینہ سے کچھ دور جب آپ باہر نکل آئے تو آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ پہلے تو میں نے نہیں بتایا تھا کیونکہ خداتعالی کی طرف سے مجھے اعلان کرنے کی اجازت نہ تھی۔لیکن اب میں بتاتا ہوں کہ ہماری کفار سے جنگ ہوگی۔یہ کہہ کر آپ نے صحابہ سے دریافت فرمایا کہ تمہاری کیا رائے ہے؟ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک حکم آجائے تو اس وقت رائے لینے کا تو سوال ہی کوئی نہیں ہوتا۔اصل بات یہ ہے کہ مدینہ والوں سے آپ کا معاہدہ تھا کہ اگر مدینہ کے اندر رہتے ہوئے یر کوئی فوج حملہ آور ہوگی تو وہ ساتھ دیں گے اور اگر باہر جنگ ہوئی تو وہ ساتھ دینے پر مجبور نہ ہوں گے لے - تو چونکہ یہ انصار سے معاہدہ تھا اور خدا تعالی کے انبیاء معاہدات کی اے سختی سے پابندی کرتے ہیں اس لئے آپ نے صحابہ سے دریافت فرمایا کہ ان کی کیا رائے ہے۔مطلب یہ تھا کہ اگر انصار معاہدہ پر اصرار کریں تو انہیں رخصت کر دیا جائے۔رسول کریم نے جب دریافت کیا کہ اے لوگو! تمہاری کیا رائے ہے؟ تو یکے بعد دیگرے مہاجرین نے کھڑا ہونا شروع کیا اور کہا یا رسول اللہ ! ہماری رائے کیا ہے بس چلئے اور جنگ کیجئے لیکن ہر صحابی جب رائے دینے کے بعد بیٹھ جاتا تو رسول کریم یا پھر فرماتے اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔اس پر پھر کوئی مہاجر اُٹھتا اور کہتا یار سول اللہ ! جب جنگ کیلئے خدا کا حکم آچکا تو اب ایک ہی رائے ہے اور وہ یہ کہ ان سے لڑا جائے۔مگر جب وہ بیٹھ گیا تو رسول کریم اے پھر فرماتے۔اے لوگو! مجھے رائے ادو۔تب انصار میں سے ایک شخص اٹھا اور اس نے کہا مسلمانوں پر