خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 246

خطبات محمود ۲۶ سال ۱۹۳۴ء مجھے گراں ملی مجھ پر اس کا کیا اثر ہو سکتا ہے ایسا موقع روز روز تو نہیں آتا۔مگر یہاں سوال اشیاء کی گرانی کا نہیں بلکہ قوم کی دیانت و امانت کا ہے۔پس یہ دلیل کام نہیں دے سکتی کہ ہم نے کب روز روز ایسی اشیاء خریدنی ہیں کہ ہم اس کا دوسروں سے مقابلہ کریں۔مگر یہاں سوال یہ ہے کہ بعض لوگوں کی دیانت کا پہلو کمزور ہو رہا ہے اور جب قوم کے بعض افراد کی دیانت کمزور ہو جائے تو دوسروں پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے اور وہ بھی خیانت کرنے لگ جاتے ہیں۔پس میں امید کرتا ہوں کہ باقی کاموں کی طرح مقامی انجمنیں اس امر کی طرف بھی توجہ کریں گی۔اس کے بعد میں ایک اور مضمون کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔جو نہایت ہی اہم اور اصولی موضوع ہے۔اسلامی تعلیم پر غور کرنے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہر فرد کی غذا قوم کے ذمہ ڈالتا ہے اور مسلمانوں پر فرض قرار دیتا ہے کہ وہ کسی مسلمان کو فاقہ سے نہ رہنے دیں۔قرآن مجید سے اس کا پتہ چلتا ہے، احادیث سے اس کا پتہ چلتا ہے، صحابہ کے تعامل سے اس کا پتہ چلتا ہے پس ہر مومن کا فرض ہے کہ وہ دیکھے کہ اس کا کوئی بھائی ان ضروریاتِ زندگی سے تو محروم نہیں ہے جن کے بغیر حیات قائم نہیں رہتی اور اگر کسی شخص کے متعلق معلوم ہو کہ وہ اس قسم کی ضروریات زندگی سے محروم ہے تو دوسرے مسلمان اس کے ذمہ دار ہیں۔ارض کہ میں ایک موٹی مثال دیتا ہوں جس سے یہ مسئلہ ہر شخص کی سمجھ میں آسکے گا اور وہ یہ ہے اگر کسی کے پاس لباس نہ ہو اور اس کی ایسی کمزور حالت ہو گئی ہو کہ وہ لنگوٹ بھی نہ رکھتا ہو اور ننگا بازار میں پھرنے لگے تو سب کو اس کی غربت اور فلاکت کا احساس ہو جائے گا اور وہ اسے کپڑے تیار کر کے دے دیں گے خواہ خود بھی انہیں تکلیف ہو حالانکہ لباس غذا سے ادنیٰ چیز ہے۔لیکن ہمارے ہاں یہ نقص ہے کہ اگر کوئی نگا پھرے تو اسے کپڑے بنادیں گے لیکن اگر فاقہ سے مرنے لگے اور کھانے کو کچھ میسر نہ ہو تو اس کی طرف بہت کم توجہ کریں گے حالانکہ مقدم چیز غذا ہے۔غلطی سے بعض لوگ یہ خیال کر لیتے ہیں کہ غذا بہم پہنچانے کی کرلیتے ساری ذمہ داری لنگر خانہ پر ہے حالانکہ لنگر خانہ پر لوکل جماعت کا اتنا ہی حق ہے جتنا لاہور گوجرانوالہ سیالکوٹ، پشاور اور دوسرے شہروں کا۔اگر ہم نے لاہور اور گوجرانوالہ میں اپنے آدمی مقرر کئے ہوئے ہیں جو وہاں کے بھوکوں کو کھانا کھلائیں تو یہاں کی جماعت کا بھی حق ہے کہ وہ اپنے بھوکوں کا لنگر خانہ پر بار ڈالے۔اور اگر باہر کی جماعتیں اس رنگ میں لنگر خانہ