خطبات محمود (جلد 15) — Page 161
خطبات محمود 141 سال ۱۹۳۴ء عیب نہیں ہوتے تو خوبصورت بنا دیتا ہے لیکن اس صورت میں بھی بعض بشری کمزوریاں اور اجتہادی غلطیاں سرزد ہوتی رہتی ہیں تا ان کی بشریت ظاہر ہوتی رہے۔ان بشری کمزوریوں کو اگر کوئی شخص قابل اعتراض رنگ میں بیان کرے تو اللہ تعالیٰ کی غیرت اس کے خلاف بھڑک اُٹھتی ہے۔مثلاً ابھی میں نے کہا تھا کہ اللہ تعالٰی بعض دفعہ انبیاء سے خود اجتہادی غلطی کراتا ہے تا ان کی بشریت ظاہر ہو۔اب اگر کوئی شخص رسول کریم الله کی کسی ایسی ہی اجتہادی غلطی پر ہنسی اور استہزاء کے رنگ میں بحث کرے تو مت خیال کرو کہ چونکہ وہ سچ کہہ رہا ہے، اس لئے اللہ تعالی کے غضب سے بچ جائے گا بلکہ وہ سزا پائے گا کیونکہ اس نے رسول کریم ﷺ کی اہانت کرنی چاہی۔ہاں اللہ تعالی کی توحید و تفرید کا ذکر کرتے ہوئے بیشک اس قسم کی مثالیں دی جاسکتی ہیں لیکن جب اس غرض کے لئے مثالیں نہ دی جائیں بلکہ تحقیر جذبے کے ماتحت اجتہادی غلطیاں گنوائی جائیں تو ایسا انسان اللہ تعالٰی کے محروم ہو جاتا ہے۔یہ دو چیزیں ہیں جو تقویٰ اللہ سے پیدا ہوتی ہیں۔تم اپنے اعمال پر غور کرو۔اگر تمہیں یہ باتیں حاصل ہیں تو تم میں تقویٰ پایا جاتا ہے اور اگر حاصل نہیں تو سمجھ لو کہ ابھی تم میں تقویٰ نہیں پایا جاتا کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ تقویٰ ہو مگر اس کے نتائج ظاہر نہ ہوں۔میں اللہ تعالٰی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہماری جماعت کو توفیق عطا فرمائے کہ ہم اس کے فضل و کرم سے سوات اور ریش جو تقویٰ کے نتائج ہیں ان دونوں کو حاصل کر سکیں اور ہمارے لئے تقویٰ نہ صرف ہمارے عیبوں کو ڈھانکنے والا ہو بلکہ ہمارے لئے زینت اور ریش۔فضلوں کا بھی موجب ہو۔له الأعراف: ۲۷ ت تذکر صفحه ۵۳۸- ایڈیشن چهارم سے الحج: ٣٨ التوبة: ٤٣ الفضل ۳۱- مئی ۱۹۳۴ء)