خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 152

خطبات محمود ۱۵۲ سال ۱۹۳۴ ء مقام ہے نہ نیچے اور اس قسم کی غلط فہمیوں کی وجہ سے وہ بہت سی نیکیوں سے محروم ہو جاتے ہیں اور وہ نہیں سمجھتے کہ تقویٰ کی بھی شاخیں ہیں جس طرح نجل اور سخاوت کی شاخیں ہیں۔اور اگر انسان اپنے نفس پر غور کرے تو وہ کوئی نہ کوئی تقوی کی شاخ اپنے اندر پائے گا جس کی وجہ سے اسے ایمان لانا نصیب ہوا کیونکہ ایمان تقویٰ کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔اگر ایک شخص خدا پر ایمان لایا اس کے مامور اور مرسل کو اس نے مانا تو ضرور ہے کہ تقویٰ کی اس میں کوئی نہ کوئی شاخ ہو جسے چاہے وہ خود بھی نہ جانتا ہو اور ممکن ہے عام لوگ بھی اس سے بے خبر ہوں لیکن اگر وہ اس تقویٰ کی شاخ کو ترقی دے گا تو وہ درخت بن جائے گا۔پھر ایک درخت سے دوسرا اور دوسرے سے تیسرا یہاں تک کہ تقویٰ کا باغ بنایا جاسکتا ہے۔قرآن مجید کا اگر ہم مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں تقویٰ کو لباس سے مشابہت دی ہے اور اس مشابہت سے بھی وہی مفہوم ثابت ہوتا ہے جو میں نے بیان کیا ہے۔اللہ تعالی فرماتا ہے يُبَنِي أَدَمَ قَدْ انْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسَاتُوَارِي سَوْاتِكُمْ وَرِيْشًا وَ لِبَاسُ التَّقْوى ذَلِكَ خَيْرٌ يعنی اے بنی آدم! ہم نے تمہارے لئے لباس اتارا جس کے دو کام ہیں۔ایک تو یہ کہ يُوَارِي سَواتِكُمْ جسم کے بعض ایسے حصے جن کا نگا رکھنا معیوب ہے، خواہ اخلاقاً یا ظاہری شکل کے لحاظ سے لباس ان کو ڈھانپ دیتا ہے۔وَرِيْشًا اور دوسرا کام لباس کا ہے کہ جو حصے نظر آنے والے ہیں، انہیں خوبصورت بنا دیتا ہے۔گویا لباس کے دو کام اللہ تعالیٰ نے بتائے ہیں ایک یہ کہ جسم کے بعض بد صورت حصے ڈھانپ دیتا ہے اور جو حصے نظر آتے ہیں، ان کی زینت کو چمکا دیتا ہے۔یہ ایک عام مثال ہے اور ہر شخص جانتا ہے کہ جسم انسانی کے بعض حصے اخلاقاً یا طبعاً ننگے رکھنا معیوب ہوتا ہے۔ابھی قریب کے زمانہ میں ایک مشہور انگریز مصور نے ایک مضمون لکھا ہے جس میں اس نے عورتوں کو مخاطب کیا ہے۔آج کل یورپ کی عورتوں میں یہ رواج پایا جاتا ہے کہ وہ اپنے جسم کو زیادہ سے زیادہ ننگا کرتی چلی جاتی ہیں، پہلے سر اور گردن ننگی ہوتی تھی، پھر سینہ نگا رکھنا شروع کر دیا گیا، نیچے سے لاتیں تنگی کرنی شروع کیں، یہاں تک کہ لباس گھٹنوں تک پہنچ گیا اور اب گھٹنوں سے بھی اوپر ہونا شروع ہو گیا ہے۔اور جس قدر حصے پر لباس بھی ہوتا ہے، وہ بھی اتنا کھلا بنایا جاتا ہے کہ ہر قدم بین ران تک کھل جاتا ہے۔صرف شکل بدلی ہوئی ہے ورنہ جس طرح ہمارے ملک میں بندریاں نچانے والے ہوتے ہیں اور وہ ذرا سی دھجی جسم پر لپیٹ دیتے ہیں یہی یورپین عورتوں۔